خطبات محمود (جلد 7) — Page 92
۹۲ قائم رہتی ہے جو خراب ہی نہ ہو۔یا وہ جس میں بار بار درستی ہوتی رہے مسلمان کہتے ہیں کہ اسلام قیامت تک رہے گا۔مگر اس پر غور نہیں کرتے کہ کس طرح رہے گا یا تو یہ کہیں کہ اسلام بدلا نہیں۔اور آج کل بھی صحابہ جیسے ہی مسلمان موجود ہیں۔لیکن وہ یہ نہیں کہہ سکتے۔اسلام بدلا تو ضرور ہے۔اس لئے یہ مانا پڑے گا۔کہ اسلام کی اصلاح کا سامان بھی خدا نے پیدا کیا ہے۔مگر عجیب بات ہے۔کہ ایک طرف تو ہمیشگی کا اعتقاد ہے۔اور دوسری طرف اس کی اصلاح کے سامان نہیں مانتے اگر اسلام نے قیامت تک رہتا ہے۔تو اس کی درستی اور اصلاح کے لئے آدمی آنے چاہئیں۔انا اعطیناک الکوثر میں یہ پیشگوئی ہے۔کہ اے رسول تیری قوم بگڑے گی تو سہی۔مگر تیرے لئے ایک ایسا عظیم الشان مصلح مقرر ہے۔کہ وہ قوم کی اصلاح کر کے ان کو اصل حال پر لاوے گا۔یہ اللہ تعالیٰ کا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے وعدہ ہے۔پہلی بات صفات کاملہ کے مالک خدا پر ایمان، دوسری ایمان کی درستی کے سامان ہیں۔اور باقی دو باتیں بندوں کے متعلق ہیں۔تیزار کن فصل لربک وانحر ہے یعنی نفس کی اصلاح اور حقوق العباد کی نگہداشت کرو قربانیاں دو قسم کی ہوتی ہیں۔جسم کی یا مال کی۔اور ان دونوں سے اپنے آپ کو بھی فائدہ ہوتا ہے اور دوسروں کو بھی مثلا زکوۃ دینے والے کو بھی فائدہ پہنچتا ہے۔اور جن کو ملے ان کو بھی۔اسی طرح اخلاق حسنہ انسان کو خود بھی خوشنما بناتے ہیں۔اور لوگوں کو بھی فائدہ پہنچتا ہے۔اس کی عزت ہوتی ہے۔اور لوگوں کو تکلیف اور دکھ سے نجات۔تو فرمایا کہ نمازیں پڑھ کر اپنی اصلاح کرو۔اور قربانی کر کے لوگوں کو فائدہ پہنچاؤ۔چوتھا رکن جس کے بغیر کوئی مذہب مکمل نہیں ہوتا یہ ہے۔کہ اس کے دشمن تباہ کئے جاویں۔کیونکہ اگر یہ نہ ہو۔تو نیکی اور بدی میں ہمیشہ لڑائی جاری رہے۔اور ترقی امن کے بغیر نہیں ہو سکتی۔ایک بزرگ کا قصہ لکھا ہے جب ان کا ایک شاگرد تعلیم حاصل کر کے واپس جانے لگا تو انہوں نے اس سے سوال کیا کہ اگر شیطان نے حملہ کیا تو کیا کرو گے اس نے جواب دیا مقابلہ کروں گا۔انہوں نے کہا۔اگر اس نے پھر حملہ کیا تو پھر اس نے جواب دیا کہ پھر مقابلہ کروں گا۔تیسری دفعہ انہوں نے یہی سوال کیا۔اور اس نے وہی جواب دیا۔اس پر انہوں فرمایا۔اس طرح تو مقابلہ میں ہی ساری عمر گذر جائے گی۔اس نے عرض کی۔پھر آپ ہی فرمائیے میں کیا کروں؟ انہوں نے کہا اچھا ایک بات بتاؤ۔اگر تم اپنے دوست کو ملنے جاؤ اور اس کے دروازے پر ایک کتا بندھا ہو جو تمہیں اندر جانے سے روکے تو تم کیا کرو گے؟ اس نے جواب دیا کہ کتے کو ماروں گا۔انہوں نے جواب دیا۔اگر کتا پیچھے ہی پڑ جاوے تو؟ اس نے کہا اگر باز نہ آئے تو مالک کو آواز دوں گا کہ اس کو ہٹائے۔انہوں