خطبات محمود (جلد 7) — Page 75
السلام۔السلام علیکم کے معنی ہیں کہ خدا تعالی تجھے موت کے بعد اپنی تمام نعمتیں اور ہر قسم کی راحتیں عطا فرما دے۔اکثر لوگ السلام علیکم کہتے ہیں مگر اس کے معنی نہیں سمجھتے۔بعض لوگ ظاہر میں تو علیکم کہتے ہیں مگر دل میں ان کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ خدا تعالیٰ اس کا بیڑا غرق کرے۔یہاں کشمیر کے لوگوں میں سلام کا بہت رواج ہے۔یہاں تک کہ عورتیں بھی بکثرت السلام علیکم کہتی ہیں۔اس کی اشاعت یہاں دیگر ممالک سے کہیں بڑھ کر ہے۔مگر کیا سلامتی اور آپس میں محبت و پیار زیادہ ہے نہیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو اصدق الناس تھے۔آپ کی بتائی ہوئی بات بھلا کس طرح غلط ہو سکتی ہے۔آپ کا مرتبہ تو وہ ہے کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ان کنتم تحبون الله فاتبعوني يحببكم الله (آل عمران : (۳۲) اگر تم خدا کے عاشق بننا چاہتے ہو تو میری پیروی کرو۔پھر تم خدا کے نہ صرف عاشق بلکہ معشوق بھی ہو جاؤ گے۔سو جو کچھ بھی آپ نے فرمایا ہے سچ ہے پھر اس کی کیا وجہ ہے کہ گو یہاں سلام کی اشاعت بہت ہے مگر تفرقہ بھی بہت ہے۔اس بات کا جواب بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا ہے۔انما الا عمال بالنيات ۴ ہر ایک کام کا معیار انسان کے ذہن میں ہوتا ہے۔قرآن کریم میں اچھے کھانے کا ذکر ہے اس سے ہر ایک اپنے ملک کے معیار کے مطابق ایک اندازہ مقرر کر لیتا ہے۔اچھا اور اعلیٰ ایک اندازہ پیدا کرا دیتا ہے۔اعمال کا کمال وہ ہوتا ہے کہ ان سے وہ نتائج پیدا ہوں جو ان سے غرض تھی۔جو شخص اس نیت سے گھر سے چلا تھا کہ میں نماز پڑھوں اور دوسرا جو لوگوں کو دیکھ کر کھڑا ہو جاوے اور نماز شروع کر دے ان دونوں کے اعمال میں بڑا فرق ہے۔یہی بات عام کاموں میں بھی ہے۔یہ بات طب نے بھی ثابت کر دی ہے۔مثلاً کہتے ہیں کہ موٹا کرنے کے لئے ہر ایک عضو پر پانی پڑتے وقت آدمی خیال کرے کہ جوں جوں پانی پڑتا ہے۔اس کو صحت ہوتی جاتی ہے۔تو اس طرح اس کو واقعی فائدہ بھی ہو جاتا ہے سو نیتوں اور خیالات کا اثر انسان کے اعمال پر بہت پڑتا ہے ایک عام مثال بیان کرتا ہوں کہ قرآن کریم کی ہر سورۃ کے پہلے بسم اللہ الرحمن الرحیم ہے صرف سورۃ براءت کے پہلے نہیں مگر وہ بھی سورہ انفال کا حصہ ہے بسم اللہ میں خدا کے حضور دعا کی جاتی ہے کہ اس کام کو تیرے نام اور مدد سے شروع کرتا ہوں۔اسی طرح یہ حکم کہ فانا قرات القرآن فاستعذ بالله من اليشطن الرجيم (النحل : (۹۹) کیوں دیا گیا ہے۔نیکی کا کام کرتے وقت اعوذ کے کیا معنی۔یہ اس لئے کہ انسان کی نیت کا اثر اچھا پڑے۔جو لوگ اعوذ باللہ۔بسم اللہ کے ساتھ قرآن مجید نہیں پڑھتے۔جیسے پنڈت دیانند صاحب نے پڑھا تھا یا پادری وغیرہ پڑھتے ہیں۔وہ اس کے برکات سے محروم رہتے ہیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مجلس میں ابو جہل بھی جاتا تھا اور حضرت ابو بکر بھی۔مگر دونوں نے جو فائدہ اٹھایا وہ عیاں ہے۔ایک آدمی کا ایمان ہر آیت پر بڑھتا ہے۔اور