خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 71 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 71

3 17 اپنی پیدائش کی غرض کو مد نظر رکھو فرموده ۸ ر جولائی ۱۹۲۱ء بمقام سری نگر) تشهد و تعوذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا۔انسان کی پیدائش کی غرض اور اس کو دنیا میں بھیجنے کا مدعا ایسا اہم اور ضروری ہے کہ تمام انسانی کوششیں اس کے گرد چکر لگا رہی ہیں۔انسان کے خیالات کا اثر اس کے اعمال پر بہت پڑتا ہے۔بہت کم لوگ ہیں جو سمجھ سکیں کہ خیالات کا اثر اس کے اعمال پر بہت پڑتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ عقائد پر بڑا زور دیا گیا ہے۔بعض لوگ سوال کرتے ہیں کہ باوجود نیک اعمال کے عقائد پر کیوں اتنا زور دیا جاتا ہے۔انسان کی فطرت اور بناوٹ پر غور کرنے سے واضح ہوتا ہے کہ عقل مند اور پاگل میں فرق دراصل خیالات کا ہی ہوتا ہے۔شدید پاگلوں کو چھوڑ کر معمولی پاگلوں کو دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ وہ اسی طرح کھاتے پیتے اور رشتہ داروں سے میل ملاپ کرتے ہیں جس طرح دوسرے لوگ۔مگر خیالات میں بڑا فرق ہو گا۔تو خیالات کے اختلاف سے ہی تمام قسم کے فرق پیدا ہو جاتے ہیں۔ہمیشہ پہلے خیالات پیدا ہوتے ہیں پھر اعمال انکے مطابق ہوتے ہیں۔خیالات ہی کی بنا پر دنیا میں ترقی ہو رہی ہے۔اور یورپ کی ترقی بھی خیالات کی بنا پر ہی ہے۔ایک بچہ تمام دن کھیلتا اور بازارں میں گشت لگاتا پھرتا ہے۔اور ایک تاجر بھی گشت لگاتا ہے۔مگر تاجر بہت کچھ کما لیتا ہے۔اور بچہ یونسی پھرتا ہے۔خیالات کی اہمیت کو لغو خیال کرنا جہالت ہے۔دینی طور پر بھی دیکھ لو۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی خیال ہی تھا کہ خدا ایک ہے۔اس خیال کو آپ نے تمام دنیا میں قائم کیا ہے۔آپ کے زمانہ میں تمام اقوام نصاری۔یہود۔زرتشتی و غیره مشرک تھے۔وہ لوگ دریاؤں پہاڑوں کو اپنا حاکم سمجھتے تھے۔محکوم نہیں خیال کرتے تھے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیال قائم کیا کہ خدا تعالیٰ ایک ہے اور تمام (Nature) نیچر کی اشیاء انسان کے ماتحت اور اس کے لئے مسخر کی گئی ہیں۔اسی خیال کا اثر ہے کہ تمام اقوام اب اپنے آپ کو شرک سے بعید سمجھنے لگ گئی ہیں۔یورپ کی ترقی صلیبی جنگوں کے بعد ہی ہوئی ہے کیونکہ اس وقت کے