خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 51 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 51

۵۱ انسانوں میں مدارج میں بعینہ چیونٹیوں میں بھی ہوتے ہیں۔بادشاہ چوکیدار، معلم، غریبوں مسکینوں کو کھانا بہم پہنچانے والے وغیرہ وغیرہ۔پس بعض انسان ایسے بھی ہیں جن کا انتظام ان چیونٹیوں سے کم رہتا ہے۔مگر چند مثالوں کو نظر انداز کر کے جانور اور انسان میں یہی فرق ہے۔انسان کی طاقت اجتماعی حیوانات سے بالعموم بڑھ کر ہوتی ہے۔جسمانیت کے لحاظ سے یہ فرق ہے۔روحانیت میں فرق بین ہے۔یہ قوت اجتماعی دارو مدار انسان کی ترقی کا ہے۔اس سے فائدہ حاصل کرنا چاہیے جیسے مسلمانوں کے پاس قرآن مجید تو تھا مگر اس سے فائدہ نہیں اٹھاتے تھے۔مسلمان طاقتیں تھیں۔ان میں انس تھا۔طاقت اجتماعی مگر دشمن کے مقابل پر استعمال کرنا نہ جانتے تھے جس سے تنزل کی طرف قدم بڑھا۔پس چاہیے کہ مسلمانوں کا ایک مقصد و مدعا ہو جائے۔اور پھر اس کے لئے سب کچھ قربان کرنے کے لئے نہ صرف تیار ہوں بلکہ عمل کر کے بھی دکھائیں کیونکہ تکمیل تبھی ہوتی ہے کہ جو قوت اجتماعی ہو اس سے فائدہ اٹھایا جائے۔میں اپنی جماعت میں قوت اجتماعی کے حد کمال پر پہنچنے کا قائل تو نہیں۔مگر جو اجتماع ہم میں پیدا ہے اس سے بھی ہم اس حد تک فائدہ نہیں اٹھا رہے جس حد تک اٹھایا جا سکتا ہے۔لوگ شاید خیال کرتے ہیں کہ ہمارے لئے کوئی موقعہ نہیں حالانکہ موقعے تو بہت ہیں مال کی قربانی تو کچھ دکھائی ہے۔اور جانی قربانی کی بھی ایک صورت جو پچھلے دنوں بعض لوگوں کی طرف سے فتنہ برپا کرنے کے ارادوں سے اطلاع پا کر پیش آئی تھی۔اس میں بہت سے آدمیوں نے دکھا دیا کہ وہ دین کے مقابل پر اپنی جانوں کی پروا نہیں کرتے۔میں نے تو بعض آدمیوں کو بیمار پا کر یہ خیال کیا کہ یہ کچھ کام نہیں دے سکتے۔لیکن رویا میں مجھے ایسے شخصوں میں سے ایک کا رقعہ دکھایا گیا جس پر لکھا تھا ایک ضعیف جان جو سلسلہ کے لئے اپنی جان قربان کرنے کو بالکل تیار ہے " غرض قربانی کا جوش تو بعض ایسے دلوں میں بھی ہوتا ہے جن کو بظاہر ہم نہیں دیکھ سکتے لیکن اس سے بڑھ کر جان قربان کرنے کا ایک طریق ہے جس میں ایک موت نہیں بلکہ بہت سے موتوں کا سلسلہ ہے اسی کی طرف حضرت صاحب نے اشارہ کیا ہے ، صد حسین است در گریبانم میں۔بظاہر نظر آتا ہے یہ موت نہیں حالانکہ یہ آسان کام نہیں کیونکہ اس موت میں تو خیال آتا ہے کہ بس ایک ہی دفعہ مرنا ہے مگر دوسرے آدمی کو ہر صبح ایک موت دیکھنی پڑتی ہے وہ ہر روز دیکھتا ہے کہ وہ علم وہ فن جو میں نے کوشش سے حاصل کیا اور وہ کاروبار جو بڑی محنت سے جاری کیا ہے اس کے فوائد سے متمتع نہیں ہو رہا بلکہ یہ سب کچھ دین کے لئے قربان کرنا پڑتا ہے۔اس موت کے قبول کرنے والے بہت کم ہیں مگر جس قوم کی ترقی ہی ایسی موتوں پر منحصر ہو اور جسمانی موت کی ضرورت نہ ہو۔اس کی نسبت کیا کہا جائے ہمارے سلسلہ کی حالت و کیفیت یہی ہے ہمارا سلسلہ اس موت کو نہیں چاہتا جسے