خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 39 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 39

۳۹ کہلا سکتا ہے لیکن یہ ایک نقطہ نگاہ ہے۔اور بات نہیں ختم نہیں ہو جاتی۔بلکہ یہ دعا بہت بڑی دعا ہے۔اور کوئی بہت بڑا مقصد ہے۔جس کے حصول کے لئے یہ دعا کی جاتی ہے ورنہ اگر ماننا اور نہ ماننا ہی ہوتا تو یہ کوئی بڑی بات نہیں۔آگئے تو کیا ہوا۔اور نہ آتے تو کیا ہوتا۔وہ کوئی خاص پیغام لائے ہیں۔جس کے قبول کرنے والے کے لئے انعام ہے۔اور منکروں کے لئے لعنت ہے۔پس ہم سے ہر ایک کو اپنے کو ٹولنا چاہئیے۔اور تلاش کرنا چاہیے۔کہ ہم میں وہ بات ہے کہ نہیں۔جو مسیح موعود کی غرض بعثت ہے۔اور جس کے ماننے پر انعام اور نہ ماننے پر سزا ہے اگر ہم میں وہ بات نہیں۔تو یہ دعا نعوذ باللہ اکارت گئی۔جو تیرہ سو برس سے مانگی جا رہی ہے۔اور آئندہ قیامت تک مانگی جاتی رہے گی۔جس کا مطلب ہو گا۔کہ خدایا ہمیں مسیح موعود کا جو آچکا ہے ماننے والے بنا۔اور جو اس کے منکر ہیں۔اور خال ہیں ان میں سے نہ بنا۔پس ہمیں وہ امتیاز حاصل کرنا چاہئیے۔اگر ہم میں وہ خاص بات ہے تو ہم مبارک ہیں۔اور اگر کسی قدر ہے تو اس کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔اور اگر نہیں تو اس کو پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔پس میں نصیحت کرتا ہوں کہ مسیح موعود کو مانے والوں کو اپنے آپ میں دوسروں سے امتیاز پیدا کرنا چاہئیے۔اور جس کو دشمن بھی دیکھ کر ماننے کے لئے مجبور ہو۔وہ دیکھیں کہ ہم اپنے عقائد میں اعمال میں اخلاق میں عبادت و روحانیت میں معاملات قرابت ولین دین میں رشتہ داروں کے ساتھ سلوک میں کچھ امتیاز رکھتے ہیں۔اگر وہ چیز ہمیں مل گئی تو ہم مبارک اور اگر نہیں تو ہمیں اس کی تلاش کرنے کی فکر کرنی چاہئیے۔اللہ تعالیٰ سب کو توفیق دے کہ ہم مسیح موعود کی غرض بعثت کو پہچانیں اور اس غرض کو حاصل کریں اور ان امور کو قائم کریں اور اپنی نسلوں تک اور وہ اپنی نسلوں تک اور اسی طرح ایک بڑے سلسلہ تک ہم اس کو پہنچائیں۔آمین الفضل ۱۸/ اپریل ۱۹۲۱ء)۔۔۔ا بخاری کتاب الصلاۃ باب قراءة الامام والماموم في الصلوة که مسند احمد بن حنبل روایت عدی بن خاتم بخاری کتاب مناقب الانصار