خطبات محمود (جلد 7) — Page 400
۴۰۰ سول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم بھی بری نہ لگتی۔پس ہمارا اختلاف کسی نئی بات کے باعث نہیں ہے۔بلکہ اس کے لئے ہے۔جو سب سے پرانی ہے۔مگر دنیا اس کو نئی سمجھتی ہے۔دنیا میں ایسا ہوتا ہے۔ایک چیز جو ایک شخص کو اچھی لگتی ہے۔وہ دوسرے کو بری لگتی ہے۔بعض علاقوں کے لوگ نہ بند باندھتے ہیں۔اور ایک ملک کے لوگ اس قسم کا پائجامہ پہنتے ہیں جس میں سے پنڈلیاں نظر آتی ہیں۔کوئی شلوار نما پائجامہ پہنتے ہیں۔کوئی شلوار۔کوئی اس قسم کا پاجامہ جس کو شرعی کہتے ہیں۔گو معلوم نہیں کہ وہ کونسی شریعت ہے جس کے مطابق وہ شرعی پاجامہ کہلاتا ہے۔کسی ملک میں لوگ لنگوئی ہی پہنتے ہیں۔کچھ لوگ ننگے ہی رہتے ہیں۔مگر کسی خاص قسم کے لباس کے بارے میں شریعت نے احکام نہیں دئے ہم ہندوانہ پائجامہ نہیں - جو عام طور پر ریاستوں میں پہنا جاتا ہے۔لیکن اگر کوئی پہنے تو ہم اس پر اعتراض بھی نہیں کرتے۔انگریز خواہ نو مسلم ہوں وہ پتلون پہنتے ہیں۔ہم ان پر بھی اعتراض نہیں کرتے۔کیونکہ انسان ہر وضع کا لباس پہن سکتا ہے۔بشرطیکہ ایسا نہ ہو جس سے عبادت میں روک پیدا ہو۔کیونکہ شریعت نے نہ کسی لباس سے روکا ہے۔نہ کسی خاص کا حکم دیا ہے۔بلکہ جس ملک میں جو رواج اور پسندیدہ ہے وہ لوگ پہنتے ہیں۔اور انسان لباس اپنی جسمانی حالت اور ملک کی حالت کو دیکھ کر خود بنا سکتا ہے۔اور خاص قسم کے لباس سے نہ صحت پر اثر پڑتا ہے نہ روحانیت پر۔مگر باوجود اس کے جو ں پاجامہ کا عادی ہے وہ تہ بند پر شرمائے گا۔نہ بند ایسی چیز نہیں جس کے لئے کسی خاص مشق کی ضرورت ہو۔کیونکہ اتنا نہ بند تو ہر ایک شخص باندھ سکتا ہے کہ معمولی طور ستر پوشی کر سکے۔گو اس قسم کا نہ بند بھی باندھنے والے ہوتے ہیں کہ ان کے نہ بند دوڑنے اچھلنے کودنے وغیرہ میں نہیں کھلتے اور ایسا نہ بند جو معمولی طور سے ستر پوشی کر سکے ایک یورپین بھی باندھ سکتا ہے۔لیکن جب ایک شخص کو جو تہ بند باندھنے کا عادی نہ ہو کہا جائے کہ نہ بند باند ھو تو وہ شرم کرے گا۔اس کی وجہ یہ نہیں کہ وہ باندھنا نہیں جانتا کیونکہ میں نے بتایا ہے کہ اس کے باندھنے کے لئے کسی خاص مشق کی ضرورت نہیں۔بلکہ اس کی وجہ صرف اس کے لئے تہ بند کا نئی چیز ہوتا ہے۔پس نہ بند باندھنے میں اس لئے شرم نہیں کی جاتی کہ یہ عمدہ پوشاک نہیں۔یا ادنیٰ درجہ کی پوشاک ہے کیونکہ لنگیاں وغیرہ قیمتی بھی ہوتی ہیں وہ لوگ جو اس کے عادی نہیں اس کے باندھنے سے شرم اس لئے کرتے ہیں کہ پاجامہ پہننے والے کے لئے نہ بند باندھنا نئی چیز ہے۔یہ بات کہ نئی چیز سے شرم اور جھجک ہوتی ہے۔اور یہ ایک طبعی بات ہے۔دو تین ماہ کے بچے کو بھی اگر کوئی نیا مشخص گود میں لینے لگے تو وہ شرم محسوس کرتا ہے۔اور اس کے چہرے پر گھبراہٹ سی آجاتی ہے۔نئے آدمی کو دیکھ کر اس کی طبیعی شرم ظاہر ہو جاتی ہے۔پس ہم جو باتیں لوگوں کے