خطبات محمود (جلد 7) — Page 384
نہ ہوں تو اس میں مجھ پر کیا اعتراض ہو سکتا ہے مجھ پر الزام تو تب آسکتا ہے جب میں خدائی کا دعوے دار ہوں اگر تحقیق سے ثابت ہو کہ کسی شخص کی بددیانتی سے سٹور کا نقصان ہوا ہے تو سب سے پہلا شخص میں ہونگا جو کہوں گا کہ مجرم کے خلاف مقدمہ چلا کر اس کو سزا دی جائے۔لیکن جب تک وہ بددیانت اور خائن ثابت نہ ہوں میں ان کو ایسا نہیں کہہ سکتا ہاں یہ ضرور کہوں گا کہ کچھ غلطی ضرور ہوئی ہے جس کے باعث نقصان ہوا ہے۔ورنہ بددیانتی ثابت ہونے تک میں ان کو دیانت دار ہی کہوں گا۔دوسری بات اس خط میں یہ لکھی ہے کہ گھاتا ہوا وہ لکھتا ہے کہ اگر اپنا روپیہ ہوتا تو اس طرح نہ کیا جاتا۔نادان آدمی غلطی میں پڑ کر ہلاک ہو جاتا ہے۔اس کو معلوم نہیں کہ جن کے سرمائے اپنے ہوتے ہیں ان کو بھی نقصان ہو جایا کرتا ہے۔میرے پاس اسٹور کی جو رپورٹ پہنچائی گئی ہے۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تمام رقم میں سے چوتھا حصہ نقصان ہوا ہے۔اور تین حصہ سرمایا باقی ہے۔اور اس کی بڑی وجہ حساب کی غلطی معلوم ہوتی ہے۔حالانکہ جن لوگوں کے اپنے سرمائے ہوتے ہیں ان کو بھی تجارت میں بڑے بڑے نقصان ہو جاتے ہیں۔ابھی چند دن ہوئے ہیں اخبارات میں ایک تار چھپی تھی کہ ولایت کے دو شخصوں کو جن کا اپنا کاروبار تھا اور پینتالیس لاکھ کا سرمایہ تھا۔اس قدر گھانا پڑ گیا کہ انکا دیوالیہ نکل گیا اور ۴۵ لاکھ میں سے صرف سوا لاکھ بچا اگر سرکاری رپورٹوں اور عدالتوں کے ریکاڑوں کو دیکھا جائے تو معلوم ہو جائے گا کہ لوگوں نے لاکھوں روپے کی ذاتی سرمائے سے کام شروع کیا۔اور بالآخر روپیہ میں سے ۲ ر باقی رہ گئے پس تجارت میں جس طرح فائدہ ہوتا ہے نقصان بھی ہوتا ہے۔آج انگریز جو تجارت ہی کے ذریعہ سے ہندوستان کے بادشاہ بنے بیٹھے ہیں ان لوگوں نے بھی تجارت میں شروع شروع میں بہت سے گھاٹے اٹھائے مگر ہمت نہ ہاری اور آخری تجارت نے ان کو بادشاہت تک دلادی تاجر اپنی ذات کے لئے روپیہ حاصل کرتا ہے۔لیکن انہوں نے قوم کے لئے حکومت لی اگر شروع کی ناکامیوں پر ہمت ہار بیٹھتے تو اب تک اپنے ہی ملک میں رہتے اور ننگے بھوکے زندگی بسر کرتے اور ان کے جسموں پر بجائے کپڑے کے ہرنوں کی کھالیں بمشکل ستر ڈھانکنے کے لئے نظر آئیں اور ان کی حالت ہندوستانیوں سے بھی بدتر ہوتی۔کیونکہ ہندوستان میں زراعت کثرت سے ہوتی ہے جس سے لوگ اپنا بھی پیٹ بھرتے ہیں اور باہر بھی غلہ بھیج دیتے ہیں مگر ان کے ملک میں اتنی زمین بھی نہ تھی کہ جس کی پیداوار ان کا پیٹ بھرنے کے لئے کافی ہوتی۔اس نقصان کا نام تو اس نے شرارت رکھ دیا لیکن امر تسر وغیرہ شہروں میں بڑے بڑے چمڑے کے تاجر ہیں جن کا ذاتی سرمایہ تھا اور ان کے لاکھ لاکھ روپیہ سے پچاس پچاس ہزار باقی رہ گئے ہیں کیا ان کے متعلق بھی کہا