خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 368 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 368

۳۶۸ طالب علم پڑھتے ہیں کوئی مدرسہ کا افسر یا کوئی گورنمنٹ یہ توقع نہیں رکھتی کہ سب کے سب طلباء تمام سوالوں کا جواب دیں اگر کوئی توقع رکھے تو یہ غلط ہو گا۔ہاں وہ جس چیز کی امید کرتے ہیں۔وہ اوسط تعلیم ہے۔کہ ہر ایک طالب علم کم از کم اتنے سوالوں کا جواب دے دے۔اگر اتنا نہیں کرتا اور پاس ہونے کے لئے جتنے نمبروں کی بالا وسط ضرورت ہے اتنے نمبر حاصل نہیں کرتا تو اس سے یہ ثابت ہو گا کہ اس نے کچھ بھی کوشش نہیں کی جس طرح مدرسہ کے نمبر بتاتے ہیں کہ اس طالب علم کی تعلیم حالت کیسی ہے۔اسی طرح روحانی امور میں ہوتا ہے۔اور علاوہ روحانی امور کے تمام دنیاوی امور میں بھی یہی حالت ہوتی ہے۔مثلاً تجارت ہے اس میں ہزاروں مدارج ہیں۔مگر تاجروں میں ہر ایک ان تمام مدارج کو حاصل نہیں کر لیتا۔البتہ ایک اوسط ہے۔جس کا ہونا سب میں ضروری ہے۔اگر کوئی شخص اوسط درجہ کے فن تجارت سے بھی واقفیت نہیں رکھتا تو وہ گھاٹا اٹھائے گا۔اسی طرح زمینداری کا فن ہے اس میں بھی بہت سے مدارج ہیں جو شخص اس فن کا اعلیٰ درجہ کا ماہر ہو گا وہ ایک زمین سے بہت سائلہ پیدا کرے گا۔جو واقف نہ ہو گا وہ اتنا نہیں پیدا کر سکے گا۔مگر اس کام کے لئے ایک اوسط ہے۔جو شخص اس حد تک اس کام سے واقف نہیں ہوگا وہ کبھی اپنے کام میں کامیاب نہیں ہو گا۔اس فن میں بھی ایک اوسط لیاقت ہے۔جس کی امید کی جاتی ہے کہ ہر شخص میں ہو۔یہی حال دین کا ہے کہ اس میں بھی ایک اوسط ہے۔اگر اس اوسط تک کسی میں دینداری نہ ہو تو سمجھا جائے گا کہ اس شخص میں دین نہیں۔تم دیندار کہلاتے ہو۔مگر تمہاری عبادت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے برابر نہیں۔مسیح موعود کے برابر نہیں اولیاء کے برابر نہیں۔پھر انبیاء کی عبادتیں آپس میں ایک دوسرے کے برابر نہیں ہوتیں۔باوجود اس کے انبیاء انبیاء ہی ہیں۔کیونکہ ایک اوسط جو نبیوں میں ہونی چاہیے وہ ان میں ہوتی ہے۔اور وہ نبی کہلاتے ہیں۔اور پھر نبیوں میں بھی مدارج ہوتے ہیں۔یہی حال حج اور زکوۃ کا ہے۔ہزاروں لوگ حج کے لئے جاتے ہیں۔کیا سب کا حج برابر ہوتا ہے ایک کے حج کا اتنا درجہ ہوتا ہے کہ دوسرے کے پچاس کے برابر ہوتا ہے اور ایک ایسے ہوتے ہیں کہ وہ حج کرتے ہیں مگر ان کا حج قبول نہیں ہوتا۔وہ گویا فیل ہو جاتے ہیں۔اس کے لئے بھی ایک اوسط ہے کہ اس میں انسان کا حج قبول ہو جاتا ہے۔اور پھر قبول ہونے والوں میں بھی درجے ہوتے ہیں۔رمضان کے روزے بہت لوگ رکھتے ہیں۔ایک ہی قسم کی سب کو بھوک اور پیاس لگتی ہے۔اور وقت بھی سب کا برابر ہی خرچ ہوتا ہے۔مگر دلوں کے فرق کے ماتحت ان کے مدارج میں بھی فرق ہوتا ہے۔اور جن کے روزے مقبول ہوتے ہیں ان میں زمین آسمان کے فرق ہوتے ہیں۔مگر