خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 365 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 365

۳۶۵ جب تک ابھی سے ایسے لوگ تیار کرنے کی فکر نہ کریں جو علم دین اور فقہ کے مسائل سے واقف ہونے کے ساتھ ہی انگریزی دان بھی ہوں۔ڈر ہے کہ جب نو مسلموں کا وہ فریق تیار ہوگا۔جو دین پر عملی طریق سے چلے گا۔تو کیا کریں گے مگر میں نے اس کے لئے ایک تدبیر کی ہے۔اور وہ یہ ہے کہ اب جو مبلغ تیار ہو رہے ہیں۔ان کو کام کرنے والے مبلغوں کے ساتھ لگا دیں گے۔مثلاً مبارک علی صاحب ولایت میں کام کر رہے ہیں۔ان سے زیادہ اچھی طرح یہ مبلغ مسائل سمجھا سکتے ہیں۔مگر انگریزی زبان نہیں جانتے۔اس لئے ان کے ساتھ بطور نائب ایک کو لگا دیا جائے گا جو ساتھ ساتھ زبان سیکھے۔اور مسائل سکھا سکے۔چنانچہ اس سلسلہ کے ماتحت یہاں کے واقف لوگ جانتے ہیں کہ مولوی جلال الدین صاحب کو ولایت کے لئے مقرر کیا ہوا ہے۔ان کو انگریزی نہیں آتی۔اس لئے پہلے پہل تو مبلغ دینی مسائل میں ان سے مشورہ لے کر کام کرتے رہیں گے۔اور یہ زبان سیکھتے رہیں گے۔جو چھ ماہ یا سال میں اتنی آجاتی ہے کہ باتیں کر سکیں۔اور پڑھانے کے لئے باتیں کر لینا ہی کافی ہوتا ہے۔اور دو سال میں لیکچر دینے کی قابلیت پیدا ہو جاتی ہے۔مگر باوجود اس کہ میں یہی کہوں گا کہ اس طرح کام تو چل جائے گا۔مگر خرچ دگنا کرنا پڑے گا۔یعنی جہاں ایک آدمی کو کام کرنا چاہیے وہاں دو دو کو رکھنا پڑے گا۔اس لئے مناسب تو یہی ہے کہ انگریزی خوان نوجوان ایک حصہ دین کا بھی ضرور سیکھیں۔اور وقت آگیا ہے کہ اس کام کو شروع کر دیا جائے۔چنانچہ تین نوجوان اسی سال بی اے پاس کر کے آئے ہیں۔کہ ان کو دین کا علم پڑھایا جائے۔ان کے لئے ایسا کورس تیار کیا گیا ہے جس سے دو تین سال میں اتنی قابلیت پید اہو جائے کہ ایک محدود دائرہ میں کام چلا سکیں۔کام کے لحاظ سے پھر بھی وہ بہت کم ہیں۔پس جو اصل مفہوم اس خطبہ کا تھا۔اور جس کے سوا دوسرا کوئی ذہن میں نہیں آسکتا۔وہ اس قابل ہے کہ اس کی طرف توجہ کی جائے اور نہ صرف یہ کہ نوجوان اس کی طرف متوجہ ہوں بلکہ وہ بھی جو اپنا اپنا کاروبار کرتے ہیں یا دفتروں میں ملازم ہیں ابھی سے اس طرف توجہ کریں۔کیونکہ علم ایک دن میں نہیں سیکھا جا سکتا۔پس وہ لوگ جو دین کی تبلیغ کے لئے غیر ممالک میں جا سکتے ہی۔خواہ وہ ملازم ہوں یا کوئی کاروبار کرتے ہوں۔انہیں کیا پتہ ہے کہ کب ان کو اشاعت دین کے لئے جانا پڑے۔اگر ایسا وقت آگیا تو وہ کیا کریں گے ان کو سلسلہ کی خدمت کے لئے اپنے آپ کو ریز رو مبلغ سمجھنا چاہیے۔جیسا کہ فوجوں کے سپاہی ریز رو ہوتے ہیں وہ سال میں ایک دفعہ جاتے اور جاکر پریکٹس کر آتے ہیں لیکن جب جنگ کا موقع آئے تو سب جمع ہو جاتے ہیں کیوں اس لئے کہ وہ اپنی پریکٹس جاری رکھتے ہیں اگر وہ لوگ جو ملازمتیں کرتے ہیں یا کوئی اور کام۔اگر پندرہ منٹ بھی روزانہ دین سیکھنے کے لئے نکالیں تو چار پانچ سال میں اتنی واقفیت پیدا کر سکتے ہیں کہ کام چلا سکیں اور مسائل میں باریک اختلاف تو رہتے ہی