خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 339 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 339

62 یوم الحج۔اللہ کی طرف رجوع کرنے کا دن فرموده ۴ اگست ۱۹۴۲ء) تشهد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا۔آج کل تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے روز خطبہ ہو جاتا ہے۔اس لئے کسی لمبے خطبہ کی ضرورت نہیں۔اور خصوصاً اس لئے بھی کہ آج کا دن اس قسم کا دن ہے کہ خطبوں پر زیادہ زور دینے کی بجائے دل سے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ہونے کا دن ہے۔آج وہ دن ہے کہ ایک ایسے شہر کی طرف اور اس شہر کے ایک ایسے مقام کی طرف جہاں نہ درخت ہے۔نہ گھاس ہے نہ سزا ہے اور نہ پانی میسر ہے۔بلکہ ایک خشک پہاڑی جس کے پتھر جل کر سیاہ ہو گئے ہیں۔جس کے اوپر چڑھنا بوجہ پتھروں کی سختی اور کنکروں کی زیادتی کے مشکل ہے۔جو میدان ہے وہ بھی ریت اور کنکر سے پر ہے۔اس میدان میں اس وقت جبکہ ہم یہاں بیٹھے ہیں۔وہاں آس پاس کے نہیں بلکہ دور دور کے علاقوں کے لوگ اور ایسے لوگ جو اپنے سر سے ٹوپی اتار کر چلنا بھی پسند نہیں کرتے۔اور جو اپنے شاندار لباس کے بغیر باہر نہیں نکلنا چاہتے۔جن میں ایسے بھی ہیں جو موٹر کے بغیر چلنا کسر شان سمجھتے ہیں۔اور جو نرم اور آرام وہ بستروں پر سونے کے عادی ہیں وہ اونٹوں پر چڑھ کر پھر رہے ہیں جس سے ان کے پیٹ کی انتڑیاں اور معدہ تک ہل جاتا ہے اور پھر اس بے آب و گیاہ میدان میں دوڑتے ہیں۔وہاں کوئی میلہ نہیں تماشہ نہیں۔بلکہ وہ وہاں اس لئے جاتے ہیں کہ خدا نے اس مقام کو عارفوں کے لئے ایک نشان قرار دیا ہے۔وہ مقام عرفات کا مقام ہے۔وہاں خدا ملتا ہے۔وہ ایک ایسا مقام ہے جہاں درخت نہیں اور ایک بھی درخت نہیں۔مکان نہیں ایک بھی مکان نہیں۔کھانے پینے کی کوئی چیز نہیں ملتی۔ہاں وہاں اللہ ہی اللہ ہے وہ مقام برکات اور دعاؤں کا مقام ہے۔وہاں دعائیں کثرت سے قبول ہوتی ہیں۔اور آج کا دن دعاؤں کی قبولیت کا دن ہے اور وہ لوگ بھی جو شریعت کے پابند نہیں انہوں نے گو اس دن کو رسم قرار دے کیا ہے۔اور عبادت اور ذکر اور دعا کو بھلا دیا ہے۔اور وہ یونہی وہیں پھرتے ہیں۔مگر جو لوگ شریعت کے واقف ہیں وہ اس دن کو دعاؤں اور ذکر میں صرف