خطبات محمود (جلد 7) — Page 298
۲۹۸ پر پہنچاتے ہیں نہ کہ اپنے فائدہ کے لئے جیسے کھلیان جلانے والے۔بعض نادانی سے نقصان پہنچاتے ہیں جیسے کھیت میں دوڑنے والے۔بعض بالکل جہالت سے نقصان پہنچاتے ہیں جیسے وہ لوگ جو کسی درخت کے پتے دیکھ کر خوش ہوتے ہیں اور ان کو مسل دیتے ہیں۔ان کا اس میں نہ فائدہ ہے اور نہ درخت سے عداوت مگر وہ جانتے ہیں کہ اس کے اس فعل کا نتیجہ کیا ہوگا۔بعض طبعی نفرت کے باعث نقصان کرتے ہیں جیسے کیڑے مکوڑے جو بعض چیزوں کو خراب کر دیتے ہیں۔اس لئے عقل مندوں کا قاعدہ ہے کہ اپنی ہر ایک چیز کی حفاظت کرتے ہیں اور کبھی غفلت نہیں کرتے اور ہر ایک شخص سوائے مجنون کے اپنی چیز کی نگہداشت کرتا اور نقصان سے بچاتا ہے۔ایک زمین دار کھیت میں بیج بونے سے لیکر غلہ گھر لے جانے تک حفاظت کرتا ہے۔لیکن حیرت ہے کہ ایمان کا بیج ایسا ہے جس کو بو کر اکثر لوگ مطمئن ہو جاتے ہیں اور اس کی حفاظت کی پرواہ نہیں کرتے۔لوگ درخت لگاتے ہیں۔اس کی حفاظت کرتے ہیں کھیت لگاتے ہیں اس کی حفاظت کا سامان کرتے ہیں۔مکان بناتے ہیں اس کی نگرانی کرتے ہیں۔مگر ایمان کی کھیتی ہی ایسی ہے جس کی حفاظت نہیں کرتے۔حالانکہ اگر کھیتی تباہ ہو جائے کسی کے تمام کھلیان جل کر راکھ ہو جائیں تو وہ کسی سے قرض لیکر گزارہ کر سکتا ہے۔اور ایمان ایسی چیز ہے کہ کسی سے قرض نہیں ملتا نہ کسی کا ایمان کسی دوسرے کے لئے کفایت کر سکتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قبیلے کے لوگوں کو جمع کیا۔اور ان کو کہا کہ تم بتوں کی پرستش چھوڑ کر ایک خدا کی عبادت کرو۔اور خدا کے رسول کو مانو۔جو شخص خدا کی مخالفت کرتا ہے میں اس کے لئے کفایت نہیں کر سکتا۔نہ اپنے بچوں کے لئے کفایت کر سکتا ہوں۔حضرت نوح بھی تھے۔مگر ان کا ایمان ان کے بیٹے کے لئے کافی نہ تھا۔اور وہ اس کو بچا نہ سکے۔حالانکہ ان کے لئے اور لوگ بچائے گئے مگر بیٹے کو نہ بچایا گیا۔اسی طرح حضرت لوط نبی تھے مگر آپ کا ایمان آپ کی بیوی کے کام نہ آیا۔تو کھیتی کی لوگ حفاظت کرتے ہیں۔مکان کی حفاظت کرتے ہیں۔درخت کی حفاظت کرتے ہیں۔تجارت کی حفاظت کی جاتی ہے۔مگر ایمان کا پودا ایسا ہے کہ اس کو بو کر چھوڑ دیا جاتا ہے اور اس کی حفاظت کی فکر نہیں کی جاتی۔بہت لوگ ہیں جو ایمان حاصل کرنے کی تو کوشش کرتے ہیں مگر جب ایمان حاصل ہو جائے تو اس کی حفاظت کی کوشش نہیں کرتے۔بلکہ اپنے آپ کو ایمان حاصل کرنے کے بعد محفوظ خیال کر لیتے ہیں۔حالانکہ نازک وقت یہی ہوتا ہے جب ایمان حاصل ہو جائے۔کیونکہ کئی دشمن پیدا ہو جاتے ہیں جو ایمان کے درپے ہوتے ہیں۔کہیں شیطان ایمان پر حملہ کرتا ہے۔کہیں کوئی اپنے فائدہ کے لئے اس کے ایمان کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے۔کہیں کچھ