خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 296 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 296

۴۹۶ 54 حفاظت ایمان (فرموده ۹ / جون ۱۹۲۲ء) حضور نے تشہد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا۔جب ایک شخص کوئی کام کرتا ہے تو اس کی حفاظت اور بقا کے لئے بھی کچھ نہ کچھ تدبیر کرتا ہے۔ایک درخت لگانے والا اس کے گرد باڑ بناتا ہے۔اور سمجھتا ہے کہ اس باڑ کی وجہ سے جانور اس میں منہ نہیں ڈالیں گے۔اور اس کے نرم پتے نہیں کھائیں گے۔کبھی اس کے گرد اینوں کی دیوار بناتا ہے۔جبکہ سمجھتا ہے کہ درخت قیمتی ہے۔اور اس کے متعلق خطرہ برداشت نہیں کیا جا سکتا۔کبھی زیادہ محنت اور صرف برداشت کرتا ہے۔اور اس درخت کی حفاظت کے لئے آدمی مقرر کرتا ہے۔جو شب و روز اس کی دیکھ بھال میں مصروف رہتے ہیں۔اور دیکھتے ہیں کہ کوئی جانور اس کو نقصان نہ پہنچائے۔کوئی اس کے پھل نہ چرائے کوئی کیڑا کوڑا یا کوئی پرندا اس کی جڑوں یا شاخوں یا پھل کو خراب نہ کرے۔کیڑوں مکوڑوں کا علاج کرتا اور پرندوں کو نقصان کرنے سے روکتا ہے۔آندھی سے بچانے کے لئے درخت کے نیچے ایسی رو کیس نگاتا ہے جن کے باعث درخت ٹوٹتا نہیں۔غرض جتنا درخت قیمتی ہوتا ہے اتنی ہی وہ اس کی حفاظت کرتا ہے اسی طرح کھیت کی حفاظت کی جاتی ہے۔بارش بعض اوقات مفید ہوتی ہے۔بعض اوقات مضر اگر مفید ہو تو پانی کو روکنے کے لئے کھیت کے ارد گر منڈیر بناتا ہے تاکہ پانی کھیت کے اندر جمع رہے۔اور اس سے کھیت کی نشو و نما ہو۔اور کبھی بارش کا پانی مضر ہوتا ہے اس وقت وہ اس کو کھیت کے اندر نہیں رہنے دیتا۔بلکہ اس کو نکالنے کے لئے منڈیر توڑ دیتا ہے۔پھر باڑیں لگاتا ہے۔کہ جانور داخل ہو کر کھیت کو برباد نہ کریں۔اور لوگ راستہ نہ بنائیں۔اور جب کھیتی پک جاتی ہے تو کوے وغیرہ جانوروں سے حفاظت کے لئے کھیتوں کے درمیان جھونپڑی بنا کر بیٹھتا ہے۔یا پہاڑوں پر مکی کے کھیت کی ریچھ سے حفاظت کے لئے رات دن زمیندار مصروف رہتے ہیں اسی طرح ایک شخص دکان کرتا ہے۔اس میں مال لا کر ڈالتا ہے وہ اس مال کی حفاظت کرتا ہے۔اور محض دکان میں مال بھر دینے سے خوش نہیں۔