خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 21 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 21

۲۱ نے دی ہو۔اور اس پر کوئی شخص جو اس کو اس کام کا اہل نہ سمجھتا ہو تو چونکہ اس سے مشورہ لیا گیا ہے۔اس کا فرض ہے کہ وہ اس شخص کے متعلق جیسی رائے رکھتا ہے۔ظاہر کرے۔اگر وہ صحیح رائے ظاہر نہ کرے۔نالائق کو لائق بتائے تو وہ منافقت کرتا ہے۔مشورہ کے تو معنی ہی یہ ہوتے ہیں کہ لوگ صحیح صحیح رائے اپنے علم کے مطابق ظاہر کریں۔اگر ایسا نہ کریں تو وہ ایک منافقوں کی جماعت ہو جائیں گے اور ایسی جماعت بہتر ہے کہ نہ ہو۔میں افسوس سے کہتا ہوں کہ اس قسم کی غلطیاں ہمارے اس پچھلے مشورہ کے متعلق ہوتی ہیں۔مجھے آج ہی ایک رقعہ آیا ہے۔جس میں وہ صاحب لکھتے ہیں۔کہ ان کو کوئی کام سپرد کرنے کی رائے دی گئی تھی۔مگر بعضوں نے ان کے خلاف رائے دی۔وہ شخص جس نے ان کو جاکر یہ بات بتائی اس نے خدا اور رسول اور بندوں کی بھی خیانت کی۔دیکھو جن سے مشورہ لیا گیا ان سے یہ توقع کی گئی تھی کہ وہ صفائی سے اپنی رائے ظاہر کریں گے۔اگر انہوں نے اپنی رائے ظاہر کی تو انہوں نے اپنا فرض ادا کیا۔اگر وہ ایسا نہ کرتے تو جھوٹ بولتے اور جو ان کے خیال میں نا اہل تھا اس کو اہل بتا کر خیانت کرتے۔اور جس نے اس شخص کو اپنی خیر خواہی جتانے کے لئے کہا۔اس نے فتنہ ڈلوانا چاہا اس کا نتیجہ یہ ہو سکتا ہے کہ آئندہ لوگ کسی کے متعلق صاف رائے نہ دیں۔اور اگر صاف رائے دیں تو لوگوں کی ناراضی کو سرلیں اور فتنہ پڑے۔ایسا شخص جو مشورہ کی باتیں ظاہر کرتا ہے فتنہ ڈلواتا ہے۔فی الحال تو میں نے یہ کیا ہے کہ دفتر امور عامہ میں ہدایت کی ہے کہ معلوم کیا جائے کہ وہ کونسا شخص تھا۔اور اگر آئندہ بھی ایسا ہوا۔تو ایسے شخص کے متعلق اعلان کر دیا جائے گا کہ اس سے نہ اب نہ آئندہ کبھی مشورہ لیا جائے۔دیکھو ہمیں اخلاق سکھائے گئے ہیں ابھی گورنمنٹ نے محکمہ قائم کئے ہیں۔نئے وزراء سے عہد لئے گئے ہیں۔کہ وہ مشوروں میں رازداری سے کام لیں گے۔اور ہمیشہ ایسا ہی ہوتا ہے۔ہمارے ساتھ تو دینی پہلو بھی لگا ہوا ہے۔ہمارے ہاں جو مشورہ میں خیانت کرتا ہے وہ دوسروں میں فتنہ ڈلواتا ہے۔اور خدا کا حکم توڑتا ہے اور خدا کا حکم توڑنے والا سمجھ لو کہ کس سزا کا مستحق ہوتا ہے۔بے شک کسی کے خلاف منصوبہ ہو تو اس کو ظاہر کرو۔لیکن جب کام کرنے کا سوال ہو گا۔تو بعض رائیں بعض کے خلاف بھی ہونگی۔اسی جلسہ مشاورۃ میں بعض لوگ جو مجلس میں نہ تھے۔ان کے متعلق کام کا سوال ہوا۔میں نے کہا کہ وہ فلاں کام کے اہل نہیں۔اور بعض مجلس میں بیٹھے تھے۔ان کے متعلق بھی میں نے اسی خیال کا اظہار کیا۔اگر لوگ یونی ہاں میں ہاں ملا دیں تو وہ منافقت کریں گے۔اور اگر وہ لوگ جن کے خلاف رائے دی گئی افسوس کریں تو انکی غلطی اور جہالت ہوگی۔