خطبات محمود (جلد 7) — Page 224
۲۲۴۴ بادشاہ نے ایسا ہی کیا کہ آپ کب آئے۔اب تک آپ نے ملاقات کیوں نہیں کی وغیرہ۔قاضی نے علیحدگی میں اس کو بلا کر کہا کہ آپ اپنے روپیہ کی نشانی بتائیں میں بوڑھا ہوں نسیان غالب ہے اس نے بتایا تو قاضی نے کہا کہ پہلے تم نے کیوں نہیں بتایا تھا۔اور اس کو روپیہ دے دیا۔غرض خدا تعالیٰ اس انسان کو جو اس کا ہو جاتا ہے وہ کچھ دیتا ہے جو بادشاہوں کو میسر نہیں۔مومن کو جو ادنی چیز ملے گی۔وہ یہ ہے کہ اس کو زمین و آسمان سے زیادہ وسیع بہشت ملے گی اس کے مقابلہ میں لوگوں سے جو قربانی طلب کی جاتی ہے۔وہ کچھ بھی نہیں۔یہ عام سیاسی شورد شرکیوں ہے۔محض اس لئے کہ چند ہزار عہدے جو انگریزوں کو ملتے ہیں۔ہندوستانیوں کو مل جائیں۔اور دس بیس قانون جو ہزاروں میں سے ہیں۔بدل دیئے جائیں اس کے لئے لوگ جیل میں جاتے ہیں۔کیسے افسوس کی بات ہے کہ یہ لوگ تو قربانیاں کریں۔اور ہم قربانی نہ کریں۔جن کا مطمح نظر خدا ہے۔یہ باتیں ایمان سے حاصل ہوتی ہیں۔جس کا ایمان مضبوط ہو۔دل میں تقویٰ ہو۔وہ آخرت کے مقابلہ میں دنیا کو ترجیح دے ہی نہیں سکتا۔دنیا اور اس کی بادشاہتیں حقیر ہیں۔خدا کے بندے کو جو بادشاہت ملے گی۔اس سے ان کو کوئی نسبت ہی نہیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کسری نے پکڑنے کے لئے یمن کے گورنر کو حکم دیا۔اس کے قاصد مدینہ شریف آئے۔کوئی فوج بھی نہ لی۔محض اس خیال سے کہ کسری کے حکم کو کون ٹال سکتا ہے۔آپ سے کہا گیا۔آپ نے فرمایا کہ کل جواب دیں گے۔دوسرے دن فرمایا کہ جاؤ تمہارے خدا کو ہمارے خدا نے مار دیا ہے۔یہ لوگ میمن میں گئے اور ماجرا بیان کیا۔گورنرنے کہا چند دن صبر کرو۔اتنے میں ایران سے جہاز آیا۔جس میں ایک شاہی خط آیا کہ ہم نے اپنے باپ کو بوجہ ظالم ہونے کے قتل کر دیا ہے۔اور ہمارے باپ نے جو عرب کے ایک شخص کی گرفتاری کے لئے حکم بھیجا تھا۔وہ منسوخ سمجھا جائے وہ لوگ یہ دیکھ کر اسلام لے آئے۔تو خدا کے مقابلہ میں کسی کی دنیاوی طاقت کچھ کام نہیں دیتی ہمیں تبلیغ اسلام میں لگ جانا چاہیے جو لوگ کسی جماعت کے امیریا سیکرٹری ہیں۔وہ ادھر توجہ کریں۔ہماری مثال ڈاکٹر کی نہیں گڈرے کی ہے۔جس کی ایک بھی بھیڑ گلے میں واپس نہ آئے تو وہ اس کی تلاش میں ادھر ادھر دوڑتا ہے۔یہ نہیں کہ جو ہمارے پاس آگیا۔اس کی ہم نے خبر لے لی۔بلکہ جو نہیں آتا اس کا سبب معلوم کریں۔اس میں جو کمزوری ہو اس کو دور کریں۔اور اس وقت تک ہم چین نہ لیں جب تک کہ ایک بھی شخص دین سے باہر ہو۔یہ کافی نہیں کہ چند ہزار یا چند سو کو ہم نے بچالیا۔کیونکہ کوئی شخص خوش نہیں ہو سکتا کہ اس کا آدھا جسم تندرست ہو۔لاہور کی آبادی ایک لاکھ کی ہے۔جب تک ان میں سے ایک بھی احمدیت سے باہر ہے۔ہمیں آرام نہیں لینا چاہئیے۔کسی ماں کے اگر مار ہو