خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 223 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 223

ایک بجلی کی روسی دوڑ گئی۔جس سے تلوار اس کے ہاتھ سے گر گئی۔آپ نے اٹھا کر کہا کہ اب تجھے کون بچائے گا۔اس نے کہا کہ مجھے کوئی بچانے والا نہیں۔اگر وہ مومن ہو تا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سبق لیتا۔مگر اس نے کہا آپ ہی رحم کریں۔آپ نے اس کو چھوڑ دیا۔۴۔پس خدا کی قدرت وسیع ہے۔اس پر بھروسہ کرنے والا ضائع نہیں ہوتا۔محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وطن سے نکلے۔بے وطن ہوئے۔مکہ والے آپ کو نکال کر اپنی کامیابی پر بہت خوش ہوئے۔لیکن مدینہ والوں کے دل آپ کی طرف خدا نے مائل کر دیئے اور آٹھ سال میں آپ کے دشمن آپ کے رحم کے محتاج ہوئے۔۔پس تو کل کرنے والے کامیاب ہوتے ہیں۔دنیا جس بات میں متوکل کی ہلاکت سمجھتی ہے وہی بات اس کی کامیابی کا ذریعہ ہو جاتی ہے۔اگر کوئی شخص اس پر ہاتھ ڈالتا ہے تو وہ ہاتھ شل ہو جاتا ہے زبان کائی جاتی ہے۔وہ دل ٹکڑے کر دیا جاتا ہے جو اس کے خلاف بغض رکھے۔اس کے لئے خداتعالی معجز نمائی کرتا ہے۔اور تم نے دیکھا ہے کہ مسیح موعود کے لئے اس نے کیسی کیسی معجز نمائیاں کی ہیں۔اگر اب بھی کوئی تو کل نہ کرے۔تو اس سے بڑھ کو کون ذلیل ہو گا۔ہم نے زندہ خدا کو دیکھا ہے۔جسے مخالفوں نے نہیں دیکھا۔ہمارا زندہ خدا سے تعلق ہے۔ان کا خدا سے خوف اگر ہے۔تو وہ ان مچھلیوں کی طرح ہے جن کا ذکر قصوں میں آتا ہے کہ انہوں نے اس لکڑی کو خدا سمجھ لیا تھا جو سمندر میں گری تھی اور اس کے شور سے وہ خاموش ہو گئی تھیں۔اور جب لکڑی ساکن ہوئی تو وہ اس پر اچھلنے لگی تھیں۔ہمارا خدا زندہ خدا ہے۔ہم نے اس کی طاقتوں کو دیکھا ہے۔کیا اس کے باوجود انکار ہو سکتا ہے اگر ہو تو اس کے معنی ہیں کہ آنکھیں مردہ ہیں یا دل مردہ ہیں۔یاد رکھو کہ ایمان کے مطابق اعمال کا ہونا ضروری ہے۔خدا مومن کو ضائع نہیں کرتا۔اگر دنیا میں تکلیف ہو۔تو اس کو جنت ملنے والی ہے۔جو ابدی ہے۔یہاں کی تکلیف چند سال کی ہے جو جلدی ختم ہو جائے گی مگر جو اس کے بدلے میں ملے گا وہ نہ ختم ہونے والا ہو گا۔جو شخص اس دنیا کو قربان کر دے گا اس کو وہ نعمتیں ملیں گی۔اس وقت کے بادشاہوں کی حیثیت غلاموں کی سی ہوگی۔کیونکہ وہ شاہوں کا شاہ رب العالمین تمہارا دوست ہو گا۔کوئی دنیاوی بادشاہ جس کا دوست ہو جائے اس کو نقصان نہیں ہوتا۔خدا جس کا دوست ہو۔اس کو کون نقصان پہنچا سکتا ہے۔کہتے ہیں کہ ایک شخص نے قاضی کے پاس امانت رکھی۔واپس آکر مانگی۔قاضی صاحب مکر گئے۔جیسا کہ پہلے زمانہ میں قاعدہ تھا کہ بادشاہ ایک دن فریادیں سنتے تھے۔اس کے مطابق وہ شخص بادشاہ کے پاس گیا۔بادشاہ نے کہا کہ کل میری سواری نکلے گی۔تم قاضی کے قریب کھڑے ہونا۔میں تم سے ایسے دوست کی طرح باتیں کروں گا جو مدت کے بعد ملا ہو۔تم مت گھبرانا چنانچہ دوسرے دن