خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 222 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 222

۴۳۲ مرض بھی ہٹ گیا۔ڈاکٹر کہتے تھے کہ مت بولو مگر بولنا ہی کھانسی کا علاج ہو گیا یہ خدا کا فعل اور تصرف تھا۔پھر جتنی کمزور حالت تھی۔اس کے لحاظ سے ڈاکٹروں نے مشورہ دیا کہ جلسہ کے بعد کام بالکل چھوڑ دیا جائے۔لیکن یہ خدا ہی کی مدد ہوتی ہے۔کہ میں نے معا شہزادہ ویلز کی کتاب لکھی جو ۸۰ صفحہ کی کتاب ہے۔اس کے ترجمہ پر دو تین دن متواتر لگائے انتظام جماعت کے لئے جو تجاویز ہوئیں ان میں حصہ لیا۔اب ایک اور کتاب لکھی ہے۔جو امیر افغانستان کے لئے ہے۔ان ایام میں کام کی وہ کثرت رہی کہ بعض راتوں کو ایک ایک دو بجے تک کام کرنا پڑا۔اور بعض دفعہ کھانا بھی نہیں کھایا۔لیکن خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے کام کرنے کی توفیق دی۔اس لئے میں جماعت کو کہتا ہوں کہ خدا پر بھروسہ کرو۔اور اپنے پر بھروسہ مت کرو۔خوب یاد رکھو کہ سامان دنیوی بھی خدا ہی کے ہیں۔لیکن بعض دفعہ وہ اپنی قدرت نمایاں کیا کرتا ہے۔اور ظاہری قانون قدرت کے علاوہ اس کا ایک اور قانون ہے۔جو وہ اپنے پیاروں کے لئے ظاہر کرتا ہے۔پھر تم اپنے پر مت نظر ڈالو۔بلکہ خدا کو دیکھو کہ وہ کیسے مورد نصرت کرتا ہے۔دنیوی کاموں میں بھی اس پر سامان کے ساتھ تو کل کرو۔مگر دینی مقامات میں خصوصا تو کل کی بہت ضرورت ہوتی ہے۔بے شک دنیا میں سامان ہوتے ہیں۔مگر جو چیز دین کی راہ میں روک ہے اس کو چھوڑ دو خدا تمہیں ضائع نہیں کرے گا۔خدا کی طاقت کا بندوں کی طاقت سے موازنہ نہیں کرنا چاہئیے۔بڑے بڑے طاقتور دم کے دم میں فنا ہو جاتے ہیں۔بادشاہوں کی زندگیاں لمحوں میں ختم ہو جاتی ہیں۔سکندر کا مشہور واقعہ ہے کہ چھوٹی سی عمر میں یونان سے اٹھ کر دنیا پر چھا گیا۔مگر فتوحات سے خوشی بھی حاصل نہ کر سکا۔واپسی پر جنگل ہی میں مرگیا۔یہ تو بادشاہوں کا حشر ہے۔مگر خدا والوں کا یہ انجام ہوتا ہے۔مشہور ہے۔کہ ایک بزرگ کے خلاف بادشاہ ہو گیا۔ان کو ان کے مریدوں نے کہا کہ دلی چھوڑ دیجئے کہ بادشاہ ۲، آپ کے مارنے کے درپے ہے۔سفر سے جب واپس آئے گا تو آپ کو مار ڈالے گا۔بزرگ نے جواب دیا کہ ہنوز دلی دور است۔اسی طرح ہوتے ہوتے جب وہ بادشاہ دلی میں داخل ہونے لگا۔تو انکو کہا گیا کہ اب تو بیچ جائیے۔بادشاہ شہر میں داخل ہو گیا ہے۔انہوں نے وہی فقرہ کہا۔اتنے میں خبر پہنچی کہ دیوار گری بادشاہ نیچے دب کر مر گیا۔۳۔پس اللہ تعالیٰ پر توکل کرنے والوں کی مدد ایسے راہ سے ہوتی ہے کہ جس کا علم بھی نہیں ہوتا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک جنگل میں تھے۔صحابہ آپ کے ارد گرد رہا کرتے تھے۔آپ سے جدا نہ ہوتے تھے۔مگر اس دفعہ آپ جنگل میں دور رہ گئے ایک درخت کے نیچے سو گئے۔تلوار درخت سے لٹکا دی۔اتنے میں ایک کافر پہنچا۔آپ ہی کی تلوار بے نیام کرکے آپ کو اٹھایا۔اور کہا کہ اب آپ کو کون بچائے گا۔آپ نے فرمایا کہ اللہ بچائے گا۔اسی جملہ نے اس پر ایسا اثر کیا اور