خطبات محمود (جلد 7) — Page 178
14A یہ کہ اس کا اثر انفرادی طور پر کیا پڑے گا اور عام طور پر کیا۔پھر یہ کہ آیا ممکن ہے کہ میں اس سچائی کو اختیار کروں اور مجھے پر کوئی ذمہ داری عائد نہ ہوتی ہو۔یا یہ کہ میرا مانا اور نہ ماننا برابر ہے یا اس میں کچھ فرق ہے۔میری نہ ماننے کی حالت اور ماننے کی حالت یکساں ہونی چاہئیے۔یا اس میں کوئی فرق ہونا چاہیے۔یہ ایک سلسلہ سوالات شروع ہو جائے گا۔اور اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ سمجھ لے گا کہ اس پر دو قسم کے فرض عائد ہوتے ہیں۔ایک یہ کہ چونکہ وہ سب سے ضروری چیز ہے۔جو اس نے اختیار کی ہے۔اور دنیا میں جو کام بھی وہ کرتا ہے۔علم پڑھتا ہے۔ملازمت کرتا ہے۔یا کوئی اور کام کرتا ہے۔اس سے جو فائدے پہنچ سکتے ہیں۔اس سے زیادہ اس سے پہنچتے ہیں۔اور اسے ترک کرنے سے باقی تمام چیزوں کے ترک کرنے سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔اور اس پر اس کی ساری زندگی کا مدار ہے۔یہی اس کا مقصد اور مدعا ہے۔اس صورت میں جو بھی کام وہ کرے گا۔اس میں دیکھ لے گا کہ اس سے اس کے مذہب اور اس کی قبول کردہ صداقت پر تو کوئی الٹا اثر نہیں پڑتا۔میرے تعلقات اور معاملات تو اس جڑ کو صدمہ نہیں پہنچاتے جس کو میں نے ساری چیزوں سے مقدم رکھا ہے۔جب وہ اس بات کو سوچے گا۔اور اس کے نزدیک احمدیت تمام چیزوں سے پیاری چیز ہوگی۔تو وہ ہر بات کے متعلق بآسانی فیصلہ کر سکے گا۔کہ اس میں وہ شامل ہو سکتا ہے یا نہیں۔اگر اس میں شامل ہونے یا اسے اختیار کرنے سے احمدیت پر برا اثر پڑے گا تو وہ اختیار نہیں کرے گا۔اور اگر اس سے احمدیت کو فائدہ پہنچے گا تو اختیار کرلے گا۔اور جب اس کی یہ حالت ہوگی تو وہ سمجھے گا۔کہ میں دنیا سے علیحدہ کوئی وجود نہیں ہوں۔بلکہ نہر انسان کا اثر مجھ پر پڑ رہا ہے۔اور ہر تغیر کا مجھ پر اثر ہو رہا ہے۔جس طرح چاند سورج، ستاروں کا اثر اس تک پہنچتا ہے۔اسی طرح انسانوں کا اثر بھی پہنچتا ہے۔اور ممکن نہیں کہ کوئی کہدے کہ امریکہ یا یورپ یا چین یا جاپان کا یہ خیال ہے مجھے اس سے کیا تعلق؟ کیونکہ کوئی عقیدہ اور کوئی خیال ایسا نہیں جو پیدا ہوا ہو اور پھر اپنی جگہ پر ہی رہا ہو۔اس کا اثر ساری دنیا میں پھیل جاتا ہے۔اور اگر ایسی بات عقل صریح کا مقابلہ نہیں کرتی تو خواہ جھوٹی بھی ہو تو دنیا میں اثر کرتی ہے۔دیکھو یورپ میں جو حالات پیدا ہوئے ان سے ہندوستانیوں کو کیا تعلق مگر اب حالت یہ ہوگئی ہے کہ ہندوستانیوں کو اپنے ملک میں کوئی دانا نظر ہی نہیں آتا۔سیاسی باتوں کو جانے دو۔کیونکہ یہ محدود حلقہ کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں۔اور اپنے فوائد کی وجہ سے اختیار کی جاتی ہیں۔ایک ہندوستان کا رہنے والا اپنے فوائد کی وجہ سے مسٹر گاندھی کے پیچھے چلے تو چلے۔علمی رنگ میں اور دانائی و عظمندی کی خاطر پیچھے نہیں چل رہا۔اس لئے یہی کہا جا سکتا ہے۔کہ مسٹر گاندھی کے پیچھے ہندوستانی چل رہا ہے۔آدمی نہیں چل رہا۔کیونکہ اگر آدمی چلتے تو یورپ والے بھی پیروی اختیار کرتے۔کیونکہ وہ بھی