خطبات محمود (جلد 7) — Page 149
۱۴۹ ہے۔اور اس کے پاس نہیں ہے۔ایک لڑکا فیس نہیں لاتا۔جب پوچھا جائے گا۔تو کہے گا۔ہے نہیں۔اس طرح ان کی حالت کا پتہ لگ سکتا ہے۔اگر افسر اس ذمہ داری کو سمجھے کہ لڑکوں کی ضروریات کا خیال رکھنا اس کا فرض ہے۔اور وہ آگے ان کے پاس پہنچائے جو انتظام کر سکتے ہیں۔اور وہ اپنے طور پر تحقیقات کر رہے ہوں۔کہ ضرورت مند فریب تو نہیں کر رہا۔بلکہ اسے فی الواقع ضرورت ہے۔تو وہ ضرورت کے پورا کرنے کا خود انتظام کر دیں گے۔اور ضرورت مند کو کہنے کی ضرورت ہی نہ رہے گی۔اور نہ انہیں سوال کی عادت پڑے گی۔ان ضروریات سے میری مراد کھانا پینا، دوائیاں اور ایک حد تک مکان بھی ہے۔اور انسانیت کے قیام کے لئے لباس اور ایک حصہ مکان کا ہے۔مکان دونوں صورتوں میں شامل ہے۔انسانیت کے قیام کے لئے بھی اور زندگی کے قیام کے لئے بھی۔وہ عورت جو جنگل میں بیٹھی ہو۔محفوظ نہیں ہوتی۔اور جو ننگی ہو۔وہ بھی انسانیت کو قائم نہیں رکھ سکتی۔تو جس طرح مذہب کا قائم رکھنا ضروری ہے۔اسی طرح حیات کا قائم رکھنا بھی ضروری ہے۔اور جہاں ان دونوں کے ضائع ہونے کا خطرہ ہو۔اور ان کے قیام کے لئے کسی چیز کی ضرورت ہو اس کا انتظام کرنا دوسروں کا فرض ہوتا ہے۔یہ نہیں کہ کہا جائے کہ فلاں جو کھدر پہنتا ہے اسے بانات کی کی ضرورت ہے۔یا فلاں سادہ خوراک کھاتا ہے اس لئے اعلیٰ خوراک کی ضرورت ہے۔بلکہ ضروریات سے مطلب ان چیزوں سے ہے۔جو انسانیت یا زندگی کے قیام سے تعلق رکھتی ہیں۔ان میں مدد کرنا ضروری ہے۔اور جو چیزیں تعیش سے تعلق رکھتی ہیں انہیں اس پر چھوڑ دو کہ اتنی قربانی وہ کرے۔پس اگر ان ذمہ داریوں کو سمجھ لو تو سوال کرنا مٹ جائے گا۔اور سوال کرنے کی عادت کے مٹنے سے قناعت صحیحہ حاصل ہو جائے گی اور اس کے نتیجہ میں تمہیں وہ اطمینان حاصل ہو گا۔کہ دنیا تم پر رشک کرے گی۔اور وہی حالت ہوگی۔کہ ریما بودالذين كفروا لو كانوا مسلمين (الحجر : ۳) لوگ خواہش کریں گے۔کہ کاش ہم بھی احمدی ہوتے۔اور ہمیں بھی یہ اطمینان حاصل ہوتا۔(الفضل ۱۵ دسمبر ۶۱۹۲۱ ) ا تاریخ الخلفاء للسيوطى حالات حضرت عثمان بن عفان مشكوة كتاب الزكوة باب من لا تحل له المسالة ومن تحل له الفاروق حصہ دوم ص ۹۳