خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 148 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 148

۱۳۸ گویا وہ لوگ جن کو مشکلات پیش آئیں۔ان کو اپنی مشکلات پیش کرنے کا موقع نہ دیا جائے۔بلکہ ان کی مشکلات پیش کرنے کی ذمہ داری دوسرے اپنے سر لے لیں۔اور خلیفہ یا اس کے نائب یا اور جماعتوں میں جو کام کرنے والے ہیں۔ان کے پاس پہنچائیں۔ہر شخص دیکھتا رہے کہ کسی کو کیا تکلیف ہے۔جس کا دور کرنا ضروری ہے۔ان تکلیفوں میں سے اصل یہی ہیں کہ کھانا نہ ملنا۔دوا نہ ملنا۔مکان نہ ہونا۔اور کپڑا نہ مل سکتا یہ ایسی تکالیف ہیں۔جن کا دور کرنا فرض رکھا گیا ہے۔ان کا انتظام کرنا خدا تعالیٰ نے ضروری قرار دیا ہے جو شخص کمانے کے ناقابل ہے۔دوائی حاصل کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔رہنے کے لئے اس کے پاس مکان نہیں ہے یا کپڑا نہیں ہے تو جماعت کا فرض ہے کہ اس کی مدد کرے اور ایسا انتظام کر دے کہ وہ پیٹ بھر سکے۔یا ستر ڈھانک سکے یا سر چھپا سکے۔یا دوائی پاسکے۔یہ ذمہ داری اسلام سب پر رکھتا ہے۔اور گو یہ فرض کفایہ ہے مگر ہے فرض۔جیسا کہ جنازہ فرض کفایہ ہے۔اگر کوئی مرجاتا ہے تو یہ ضروری نہیں۔کہ تم سب اس کے جنازہ پر جاؤ۔لیکن اگر تم میں سے کوئی بھی نہیں جاتا۔تو سب گنہگار ہونگے۔اسی طرح اگر کسی کے پاس کپڑا نہیں۔مکان نہیں۔دوائی نہیں۔تو جماعت کا فرض ہے کہ اس کا انتظام کرے۔لیکن ہر شخص کا علیحدہ علیحدہ یہ فرض نہیں۔بلکہ سب پر ہے۔اور اگر جماعت انتظام نہ کرے گی تب سب گناہ گار ہونگے۔اور اگر ایک بھی کر دے گا۔تو کوئی گناہ گار نہیں ہو گا۔اس کے لئے اسلام نے ایک حصہ زکوۃ کا رکھا ہے۔اگر یہ انتظام قائم ہو جائے۔تو سوال کرنا اٹھ جاتا ہے۔اور جب کوئی شخص دیکھے گا کہ ایک فاقہ سے ہے۔مگر سوال نہیں کرتا۔تو وہ کہے گا۔میں پیٹ بھر کے کھانے کے بعد اچھی روٹی کے لئے سوال کروں۔تو میرے لئے شرم کی بات ہے اسی طرح جب دیکھا جائے گا کہ ایک بے چارہ ستر ڈھانکنے سے بھی عاری ہے۔اور پیوند لگا لگا کر ڈھانکتا ہے۔تو کہے گا مجھے شرم نہیں آتی کہ میں لٹھے ، ململ کے لئے سوال کرتا ہوں۔اور موٹا کپڑا پہنے پر صبر نہیں کرتا۔تو سوال کے مٹانے کے لئے یہ ضروری ہے۔کہ جن کو سوال کی حاجت ہو۔ان کی حاجت کو دوسرے محسوس کریں۔اور اس کے پورا کرانے کا انتظام کریں۔اگر یہ بات ہو جائے۔تو سوال کرنے کی عادت خود بخود مٹ جائے گی۔خص اب ہمارے پاس بیسیوں درخواستیں آتی ہیں کہ یہ ضرورت ہے یہ حاجت ہے۔اسے پورا کیا ائے۔مثلاً کئی طالب علم لکھتے ہیں۔کہ انہیں فلاں چیز کی ضرورت ہے۔وہ دی جائے۔لیکن اگر افسر دیکھ لے کہ فلاں محتاج ہے۔اور اسے فلاں چیز کی ضرورت ہے۔جس کا علم آسانی سے ہو سکتا ہے۔کیونکہ جب اس کے پاس کاپی یا پنسل نہ ہوگی تو معلوم ہو جائے گا۔کہ اس کی اسے ضرورت