خطبات محمود (جلد 7) — Page 109
1۔4 27 27 ایمان کی خوشبو (فرموده ۱۴ نومبر ۱۹۲۱ء) تین بار تشہد کے بعد سورہ فاتحہ کی تلاوت کی اور فرمایا۔میں جس امر کی طرف آپ لوگوں کو ایک عرصہ سے توجہ دلاتا ہوں آج بھی اسی مضمون کی ایک شاخ کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔لیکن اصل مضمون کے تسلسل کو ایک حکمت کے ماتحت اگر منشاء الہی ہو تو اگلے جمعہ پر ملتوی کرتا ہوں۔اور اس کی ایک اور شاخ کو لیتا ہوں۔میں سمجھتا ہوں کہ پچھلے دنوں میں میں نے جو کچھ کہا۔اور جو کچھ آئندہ کہنے کی نیت ہے۔محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے اسی کے ارادے کے موافق ہے۔میں جانتا ہوں میں نے یہ باتیں جس وقت کہنی چاہی ہیں وہ وقت خدا کے نزدیک مناسب اور صحیح ہے۔اور یہ بھی جانتا ہوں کہ وہ انسان جو اب بھی اپنی نفسانی خواہشات میں مبتلا رہے گا اور نیکی کی طرف قدم نہیں اٹھائے گا وہ خدا کے مقربین کے رجسٹر سے کاٹ دیا جائے گا۔خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا اور وہ لوگ جو سنیں گے اور سنکر عمل کرنے کی سعی کریں گے وہ خدا کے فضل کے وارث ہوں گے اور ان پر خدا کی رحمت نازل ہوگی۔میں نے جو کچھ تم لوگوں کو کہا ہے اس میں میرا ذاتی نفع کوئی نہیں۔نہ مالی نفع ہے۔نہ اعزازی نفع ہے۔نہ رتبہ کے طور پر نفع ہے۔تم زیادہ سے زیادہ جو کچھ کر سکتے تھے وہ تم کر چکے۔تم میری بیعت کر چکے۔اور تم نے بیعت کرکے جو اعزاز دینا تھا تم نے یا خدا نے وہ مجھے دے دیا۔اب یہ معاملہ تمہارے اختیار سے باہر ہو گیا۔اب تمہارے پاس کوئی چیز نہیں جو تم مجھے دو اور پہلے نہ دے چکے ہو۔تمہارا جو کچھ تھا وہ تم میں سے بعض ایک سال قبل بعض دو سال قبل بعض تین سال اور بعض سات سال قبل دے چکے۔تم نے وہ سب کچھ جو تمہارا تھا قربان کر دیا۔کیونکہ تم نے بیعت کرلی اور بیعت کے بعد بیعت کرنے والے کی کوئی چیز نہیں رہا کرتی۔نہ اس کی جان اس کی رہتی ہے۔نہ اسکا مال اس کا رہتا ہے۔نہ اس کی عزت اس کی عزت رہتی ہے۔نہ اس کی جائداد اس کی رہتی ہے۔غرض جو کچھ تمہارا تھا وہ آج سے مدت پہلے تم دے چکے۔پس اب تم سے میرا کوئی