خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 5 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 5

2 مقابلہ و مسابقت کی رُوح (فرموده ۲۱ جنوری ۱۹۲۱ء) تشهد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا۔تمام دنیا میں ہم دیکھ رہے ہیں۔کہ ایک دوڑ ہو رہی ہے۔ہر شخص اپنے اپنے رنگ میں بڑھنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے۔مدرسہ کے طالب علم بھائی بھائی ہوں۔لیکن دونوں کی کوشش ہوگی۔کہ میں اچھا پڑھ کر سناؤں۔اور اچھے نمبر پاؤں۔ادب ہو گا۔لحاظ ہو گا۔مگر اس مقابلہ میں ایک بھائی دوسرے کا پیچھا نہیں چھوڑے گا۔جہاں فائدہ کا سوال ہو گا۔وہاں قربانی کرے گا مگر مقابلہ میں ایک انچ پیچھے نہیں ہے گا۔پڑھائی کو چھوڑ کر کھیل میں دیکھتے ہیں۔اس میں بھی یہی رنگ نظر آتا ہے۔اس وقت ایسا معلوم ہوتا ہے۔کہ وہ بچے نہیں بادشاہ ہیں۔اور ان کے سامنے کھیل کا نہیں موت و حیات کا سوال ہے۔ایک کو ٹھوکر لگتی ہے۔وہ گرتا ہے۔تو اس کی پارٹی کے پکارتے ہیں کہ پروا نہ کرنا۔شاباش بڑھے چلو فٹ بال کھیلتے ہیں۔گرتے ہیں۔بعض کی ہڈیاں ٹوٹ جاتی ہیں۔ہاکی کھیلنے میں دانت آنکھ ضائع ہو جاتے ہیں۔ایسی حالت میں جن کو چوٹ آتی ہے۔وہ پروا نہیں کرتے۔نہ ارد گرد والے پروا کرتے ہیں۔پھر ہم اقوام کے مقابلہ کو دیکھتے ہیں ان میں بھی عجیب رنگ نظر آتا ہے یہ ارائیں انجمن ہے۔یہ سیدوں کی ہے۔یہ مغلوں کی ہے اور ہر ایک کی کوشش ہوتی ہے کہ بڑھ جائیں۔کوئی خیال نہیں کرتا کہ ہم سب آدمی ہیں۔بلکہ اس جھوٹے فرق کی خاطر کہ یہ سید ہیں۔یہ مغل ہیں۔یہ پٹھان ہیں یہ راجپوت ہیں اور یہ فرق ایک نمائشی فرق ہوتا ہے۔جس کے لئے طاقت خرچ کرتے ہیں۔اور یہ محض نمائشی بات ہوتی ہے۔ایک ہی سکول کے لڑکوں کو ہم دیکھتے ہیں۔آپس میں میچ کھیلتے ہیں تو مقابلہ میں ان کی دشمنوں کی طرح سانس پھولتی ہے۔دم اکھڑ جاتا ہے۔اور ایک دوسرے کو شکست دینے پر تلے ہوئے ہوتے