خطبات محمود (جلد 7) — Page 3
کی طرح حفاظت کی جائے۔زندگی کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ انسان اپنے بنی نوع کی خدمت میں اس کو لگا دے ورنہ اپنی ذات میں زندگی کوئی چیز نہیں۔ہم اگر آج مر جائیں تو دنیا کے لئے کوئی کمی کی بات نہیں۔ہاں اگر ہماری زندگی سے دنیا کو کسی نہ کسی قسم کا فائدہ ہے۔تب ہماری موت ایک نقصان دہ چیز ہے۔ورنہ اگر ہم سے نفع نہیں تو خواہ ہم پچاس برس اور جئیں تو بھی کچھ نہیں۔زندگی سے غرض کھانا پینا نہیں یہ تو زندگی تک ہے۔مرنے کے بعد نہیں مثلاً دیکھو۔کوئی ریل میں سوار ہو اور جہاں اس کو جاتا ہے وہاں پہنچ کر گاڑی سے نہ اترے اور کہے کہ میں اس لئے نہیں اترتا کہ مجھ کو اچھی جگہ ملی ہوئی ہے۔تو یہ اس کی نادانی ہے۔کیونکہ ریل پر چڑھنا تو منزل پر اترنے کے لئے تھا نہ کہ اچھی جگہ کے لئے۔اسی طرح یہ زندگی کام کرنے اور مرنے کے لئے ہے اور مومن اس مرنے سے نہیں گھبراتا کیونکہ جس کو موت کہتے ہیں۔وہ اس کی زندگی کا دن ہوتا ہے۔پس تمہاری زندگی دنیا کے فائدہ کے لئے ہے۔اگر تمہارا ہمسایہ دکھ میں ہو تو اس کی مدد کرو۔اپنے آرام کو تکلیف سے بدل لو۔اگر تمہارے آرام سے دوسرے کو فائدہ پہنچتا ہے۔اگر تمہاری جان کے خطرہ میں پڑنے سے کوئی جان بچ جائے تو اپنی جان کی فکر نہ کرو۔یاد رکھو تم پر کوئی دن نہ آئے۔جس میں تم سے جسمانی روحانی، علمی، مالی فائدہ دوسروں کو نہ پہنچے۔وہ دن تمہاری موت کا دن ہو گا۔جس دن تم سے نفع نہ پہنچے۔ورنہ مرنے سے اس کو خوف اور رنج نہیں ہوتا۔کیونکہ وہ اس کی کامیابی کا دن ہوتا ہے رنج ہوتا ہے تو اس بات کا کہ میں خدا کی مخلوق کی اور خدمت نہ کر سکا۔جو دنیا کو چھوڑتے ہوئے دنیا اور اپنے نفس کے لئے رنج کرتا ہے وہ کافر و منافق ہوتا ہے۔لیکن مومن کہتا ہے کہ میں یہاں رہتا تو اور خدمت کرتا۔پس اپنی زندگی کو خدمت میں لگاؤ۔یہ مت کرو کہ تمہارا ہمسایہ محلہ میں دکھ میں ہو اور تم اس کی مدد نہ کرو کیونکہ تمہاری تو غرض ہی یہ ہونی چاہیے کہ تم دوسروں کے کام آؤ۔دوسرا مقصد کہ خدا کو پاؤ وہ اس کے بعد آتا ہے جب تک خدا کی مخلوق سے ہمدردی اور محبت نہ ہو۔تم خدا کو نہیں پا سکتے۔اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسا کہ سونا مٹی کے نیچے ہوتا ہے۔مٹی کو اٹھاؤ گے تو سونا پاؤ گے ورنہ نہیں۔خدا کا سلوک بندوں کی محبت اور ہمدردی کے بعد ہوتا ہے اس لئے تم اپنے نفس کو خدا کی مخلوق اپنے گھر کے لوگوں محلہ شہر ملک بلکہ تمام دنیا کے لوگوں کی ہمدردی میں لگاؤ کہ تم کو خدا کی محبت حاصل ہو۔اپنی عمر کو رائگاں نہ کرو۔کیونکہ خدا نے تمہیں اس لئے زندگی دی ہے کہ تم اس کو کار آمد بناؤ۔اللہ تعالیٰ ہماری جماعت پر رحم کرے اور اس نمونہ پر چلنے اور اس کو اختیار کرنے کی توفیق