خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 70 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 70

6۔فضل ہے کہ اس نے ایک نظام قائم کیا اور بہت سی گردنیں تمہارے آگے جھکا دیں۔یہ غلطی ہوگی۔اگر کوئی سمجھے کہ اس کی طاقت یا حکمت سے اس کو حکومت مل گئی۔افسروں کا فرض ہے کہ وہ اپنے آپ کو خادم سمجھیں اور محبت و پیار کا سلوک کریں۔افسر یاد رکھیں کہ انکو حکومت یا افسری محض خدا کی طرف سے احسان کے طور پر ملی ہے۔اور یہ تبھی تک قائم رہے گی جب تک کہ وہ جھکے رہیں گے۔اسی طرح ما تحت یاد رکھیں کہ ان پر حکومت طاقت دنیاوی سے نہیں ہے بلکہ خدا تعالی نے اپنے فضل سے دی ہے اور خدا جن کو افسری دیتا ہے انکی مدد بھی کرتا ہے۔جو انکے مقاصد میں روڑے اٹکاتے ہیں۔خدا ان کو تباہ کر دیتا ہے۔افسر خدا کا شکر کریں کہ انکی آواز کو بااثر بنایا مگر وہ اس کے باعث بے جانخر سے کام نہ لیں غریبوں کے لئے آزار کا موجب نہ ہوں کیونکہ افسری ان کی اسی لئے ہے کہ وہ اپنے دوسرے بھائیوں کی خدمت کریں اور جو کسی کے ماتحت کام کرتا ہے وہ نہایت تن دہی اور فرمانبرداری سے کام کرے۔یہ سلسلہ روحانی ہے۔جس کی حکومت جبر سے نہیں۔سیاست کے پاس تلوار ظاہری ہوتی ہے۔مگر اس کے پاس خدا کی تلوار ہے۔پس دونوں خدا کا احسان ہے۔میں دونوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ امن سے رہیں۔شروفساد کی راہوں سے بچیں۔جو لوگ خدا کے لئے اپنے آپ کو گرائیں گے انکو جو عزت ملے گی وہ ہمیشہ رہنے والی ہوگی جس کو کوئی نہیں لے سکے گا۔اللہ تعالی آپ پر رحم کرے۔آپ کو اپنا مخلص بندہ بنائے۔اور آپ کا انجام بخیر کرے۔(الفضل ۱۳؍ جولائی ۱۹۲۱ء) ا مشکوة کتاب الفتن باب العلامات بین یدی الساعته وذکر الدجال