خطبات محمود (جلد 7) — Page 60
۶۰ مسیح موعود نے ان کو دوبارہ زندہ کیا۔اگر تم فردا فردا " متقی و پرہیز گار ہو تو یہ کوئی بڑی بات نہیں۔بلکہ ضرورت یہ ہے کہ تم سب کو معلوم ہو کہ سلسلہ کے قیام کی کیا غرض ہے اور سلسلہ کا مقصد کیا ہے۔اور پھر اس مقصد کو سامنے رکھنا چاہیے۔اور وہ محض چند یا اکثر افراد کے کرنے کا کام نہیں۔بلکہ ساری جماعت کا کام ہے۔اور جماعت کے ہر ایک فرد کے ذہن میں وہ مقصد ہونا چاہئیے۔اور اس کے لئے متفقہ کوشش ہونی چاہیے۔اور ایسا ہو کہ جب ہم مریں تو ہماری نسلیں اسی کوشش میں لگی رہیں۔کیونکہ جب تک کسی قوم کا متفقہ ایک مقصد نہ ہو اور وہ ہر ایک فرد قوم کو معلوم نہ ہو۔اس وقت تک وہ قوم اس مقصد کو پا نہیں سکتی۔دیکھو فوج کے ہر سپاہی کو معلوم ہوتا ہے کہ اس فوج کا کیا مقصد ہے۔جس کا وہ سپاہی ہے۔اور ہر ایک سپاہی اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے کوشش کرتا ہے۔میدان جنگ میں اگر فوج کا کرنل مرجائے تو میجر اس کی جگہ کمان کرلے گا۔اور میجر مر جائے۔تو کپتان کمان لے گا۔اور اسی طرح ایک وقت سپاہی بھی کمان لے گا۔اور وہی کام کرے گا وہی کچھ سوچے گا جو جرنیل یا کرنل کرتا اور سوچتا ہے۔اور آخر وہ سب فوج کامیاب ہوتی ہے۔کیونکہ سب کو اپنا مقصد معلوم ہے کہ ہم نے کس مورچے کو فتح کرتا ہے۔یہ اصول ٹھیک نہیں کہ جو فلاں کرے گا وہ کریں گے۔بلکہ مقصد سب کا ایک ہونا چاہیئے۔اور اس کے حصول کے لئے ہر ایک ممکن کوشش سے کام لینا چاہئیے۔پس سوچو کہ تمہارا کیا مقصد ہے۔اور اس سلسلہ کی غرض اور مدعا کیا ہے۔اگر تمہیں معلوم ہوگا۔تو تمہارے قدم کسی خطرناک سے خطرناک مقام پر بھی نہیں ڈگمگائیں گے۔اور کوئی روک تمہارے رستہ میں حائل نہ ہوگی۔دیکھو جو شخص یونی سیر کرنے نکلے اس کو اگر آگے بڑھنے سے روک دیا جائے۔تو وہ رک جائے گا۔لیکن جس شخص نے مثلاً بٹالہ جاتا ہے۔اگر اس کو سڑک پر چلنے سے روک دیں تو وہ واپس نہ آئے گا بلکہ ایک دوسرے رستہ پر پڑے گا۔اور اگر اس سے روکا جائے گا تو پھر دوسرے کسی اور رستہ پر پڑے گا۔حتی کہ وہ اپنے مقصد کو پالے گا۔لیکن جب مقصد نہ ہو۔تو فوراً ایک شخص اس راستہ کو چھوڑ سکتا ہے قرآن کریم اور محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اور مسیح موعود کے ذریعہ جو تعلیم ہمیں ملی۔اور جو ہمارا مقصد ہمیں بتایا گیا ہے۔اگر ہم نے اس کو سمجھ لیا ہے تو ہم کسی وجہ سے بھی اس کو حاصل کئے بغیر نہیں رک سکتے۔اور اگر نہیں تو پھر اس رستہ پر قدم بھی نہیں رکھا جائے گا۔یہ دن خاص ہیں اور اور ان میں خدا کا وعدہ ہے کہ دعائیں قبول ہوتی ہیں۔ان سے فائدہ اٹھا کر خوب دعائیں کرنی چاہئیں۔ہمیں جو مرحلہ طے کرنا ہے۔اور جس مقصد کو ہم نے پانا ہے ہم نہیں کہہ سکتے۔کہ وہ ہمیں کب حاصل ہوگا ہم نہیں کہہ سکتے کہ وہ سینکڑوں برسوں میں حاصل ہوگا یا ہزاروں میں یا لاکھوں برسوں میں یا کروڑوں اور اربوں میں ہو گا۔لیکن وہ خواہ کبھی ہو۔ہمیں اس