خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 52 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 52

۵۲ لوہے کی تلوار لاتی ہے بلکہ وہ موت مانگتا ہے جسے واقعات اور حوادثات کی تلوار کاٹتی ہے اس موت اور قربانی کے بغیر ہمارے لئے کوئی ترقی نہیں مگر ایسے لوگ کم پائے جاتے ہیں اور پھر ان میں سے جن میں یہ جوش ہے ان کو پتہ نہیں کہ اس جوش کو نکالیں کس طرح کام کرنے والی قومیں تو اس طرح کام کرتی ہیں کہ زرد بخار کی حقیقت دریافت کرنے کے لئے کنی ڈاکٹروں نے اپنے آپ کو پیش کیا اور بعض نے اپنی جانیں بھی قربان کر دیں۔یہ ایک بخار تھا ہم نے ہزاروں بخاروں کا علاج کرنا ہے۔اس وقت چاروں طرف سے آوازیں آرہی ہیں کہ ہمیں مبلغین کی ضرورت ہے مگر ہمارا حال یہ ہے کہ ہمارے پاس اتنا روپیہ نہیں کہ کرایہ بھی دے سکیں۔اس لئے آدمیوں کی ضرورت ہے جو اپنے تمام فوائد ظاہر و دنیاوی کو بالائے طاق رکھ کر مختلف ملکوں میں تبلیغ اسلام کے لئے نکل کھڑے ہوں اور اپنے اخراجات خود بہم پہنچائیں۔یہ بات ممکن نہیں اس کی مثال موجود ہے۔یہاں ایک لڑکا تھا جو پہلے مدرسہ احمدیہ میں تھا۔پھر درزی خانہ میں کام سیکھتا رہا۔جو چپ چاپ چلا گیا۔اور ہمی سے جہاز پر نوکر ہو کر لنڈن جا پہنچا اور وہاں بھی اپنی محنت سے کماتا اور مبلغین کی امداد کرتا ہے۔پس اگر کچھ نظیریں بھی اس قسم کی قائم ہو جائیں تو پھر تحریک عام شروع ہو سکتی ہے۔بعض محنت مزدوری کرنے جا سکتے ہیں۔بعض اپنی جائدادیں خدا کی راہ میں دے کر یہ کام سر انجام دے سکتے ہیں۔جن لوگوں نے کام کرنا ہوتا ہے ہر حالت میں کرتے ہیں دیکھو جاپان والوں نے مغربی ترقی کا راز معلوم کرنے کے لئے اس قربانی سے کام لیا کہ ان کے بڑے بڑے امیر مزدور اور ملازم بن کر ان ممالک میں رہے اور پھر اپنے ہاں ویسی کلیں جاری کر کے مغرب کا مقابلہ شروع کر دیا۔اسی طرح ہمارے لوگ چار چار پانچ پانچ آدمیوں کے گروہ ہو کر دوسرے ملکوں میں چلے جائیں۔وہاں محنت مزدوری کریں پیٹ پالیں۔اور زبان سیکھیں پھر تبلیغ کریں۔اور اپنی حرکات سکنات اور کام کا طرز مرکز کے ماتحت رکھیں۔ہمارے لوگوں نے بے شک اخلاص پیدا کیا ہے اور یہ مادہ ان میں ہے کہ وہ اپنے فوائد کو دین پر قربان کر سکتے ہیں مگر اب اس سے فائدہ اٹھانا چاہئیے۔پہلے یہاں کے دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں پھر باہر کے لوگوں کو کہ اس قسم کی جماعتیں اٹھیں اور اپنے آپ کو پیش کریں۔اور ہ اپنے اوقات و حرکات و سکنات کو دین کے لئے وقف کریں۔مال تو ہمارے پاس ہے نہیں سو دعا اور علم دین ہے جو ہم دیں گے اس کے مقابل میں اوقات اور نقل و حرکت کی آزادی وہ خدا کو دیں اور اس کا اجر وہ اللہ سے پائیں۔انشاء اللہ پھر چند روز میں وہ کام ہو جائے گا جس کے لئے یہ سلسلہ قائم کیا گیا ہے۔خدا ہمارے ذریعے سے اس کام کو تکمیل تک پہنچائے۔وہ الفضل ۲۵ / اپریل ۱۹۲۱ء)