خطبات محمود (جلد 7) — Page 431
إسلام تو ہم بھی بڑے ہو جاتے اگر ایک شخص بڑا جرنیل ہے تو اس لئے کہ اس کو موقع مل گیا ایک دوسرا شخص جو مفتی زمیندار کی طرح اپنی عمر گزار دیتا ہے۔اگر اس کو موقع ملتا تو وہ بھی جرنیل ہو جاتا۔پس بہت سے لوگوں کو شکایت ہوتی ہے کہ انکو موقع نہیں ملا مگر افسوس ان پر ہو گا جن کو موقع ہے۔اور وہ اس کو ضائع کر دیں۔ہمارے لئے یہ فخر کی بات ہے کہ ہمیں موقع ملا ہے۔دوسروں کو شکایت ہے کہ ان کے لئے موقع نہیں مگر ہمارے لئے موقع مہیا کیا گیا ہے۔کہ ہم جانی اور مالی قربانی اور خیالات کی قربانی کریں۔جانی قربانی یہی نہیں کہ تلوار سے سر کٹوایا جائے بلکہ آرام کی زندگی چھوڑ کر تبلیغ کے لئے دور دراز سفر پر جانا بھی جانی قربانی ہے۔پھر احساسات کی قربانی تم کو کرنی پڑتی ہے خیالات قدیم کو چھوڑنا پڑتا ہے پس کوئی قربانی نہیں جس کا تم کو موقع نہ دیا گیا ہو۔جانیں تمہیں قربان کرنی پڑتی ہیں وقت تمہیں قربان کرنا پڑتا ہے۔آرام کی قربانی کا موقع تمہارے لئے ہے خیالات کی قربانی کا موقع تمہارے لئے ہے۔غرض ہر قسم کی قربانیوں کا دروازہ تمہارے لئے کھولا گیا ہے۔جو ان قربانیوں کو بجا لائیں گے وہ خدا کے پیار کے جنت کو پالیں گے اور جو نہیں کریں گے وہ من كان في هذه اعلى فهو فی الاخرة اعلٰی کے مصداق ہونگے۔میں یہ نصیحت کرتا ہوا اپنا فرض ادا کرتا ہوں۔مانو یا نہ مانو یہ تمہارا اختیار ہے۔لیکن میں امید رکھتا ہوں کہ تم ضرور مانو گے کیونکہ تم نے اپنے اس وقت تک کے عمل سے دکھا دیا ہے کہ تم ماننے کے لئے تیار ہو۔پس اپنے اعمال کو درست کرو۔اور اپنے نفسوں کی اصلاح کرو۔اور نقصوں کو دور کرو۔اگر یہ کرو گے تو مرنے سے پہلے آخرت کے لئے کچھ کر لو گے۔(الفضل ۲۱ ۱ دسمبر ۱۹۲۲ء)