خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 427 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 427

۴۲۷ ہیں ایک ڈاکٹر اور ایک وکیل لائق ہے۔لیکن اس لیاقت کے یہ معنی نہیں کہ لائق وکیل ایک ڈاکٹر کا بھی کام کر سکتا ہے۔اور ایک لائق ڈاکٹر ایک لائق ایڈیٹر کا کام بھی کر سکتا ہے۔بلکہ ہو سکتا ہے کہ ایک ماہر اپریشن کرنے والا ڈاکٹر ڈاکٹری کی تعلیم بھی نہ دے سکتا ہو۔بہت لوگ ہیں جو اس امتیاز کو نہیں سمجھتے کہ جو کسی کام میں لائق ہو وہ سب کاموں میں لائق نہیں ہوتا۔پس جس کسی کام پر کسی شخص کو لگایا جائے۔چاہیے کہ وہ شخص اس کام میں لائق ہو۔ورنہ مہمانوں کو تکلیف ہوگی۔اور کام بھی خراب ہو گا مثلاً ایک شخص اگر آریوں کے مقابلے میں اچھی تقریر کر سکتا ہے تو ضروری نہیں کہ وہ اچھا حساب دان بھی ہو۔اگر اس کو حساب دیا جائے گا تو ممکن ہے کہ اس سے ہزار ڈیڑھ ہزار کا نقصان ہو جائے۔اس صورت میں اس نقصان کا گناہ اس شخص کے ذمہ بھی ہو گا جس نے اس کو اس کام کے لئے منتخب کیا۔پس غور کے بعد اور سوچ کر انتخاب ہونا چاہیے۔یہ سچ ہے کہ بعض دفعہ سوچ کر انتخاب ہوتا ہے اور پھر بھی غلطی ہو جاتی ہے مگر اس کا یہ نتیجہ نہیں ہونا چاہیے کہ سوچ کر انتخاب کرنا ہی عبث ہے۔اگر انتخاب کے بعد بھی غلطی ہو جائے تو اس میں جو صدمہ ہوتا ہے اس کا ثواب بھی مل جاتا ہے۔کیونکہ اپنی طرف سے کوشش کی گئی ہے اور اپنی طرف سے دیانتداری سے کام کیا گیا ہے۔پھر اگر غلطی ہوتی ہے تو یہ شخص سزا کا مستحق نہیں ہو تا۔لیکن اگر انتخاب میں سوچ سے کام نہ لیا جائے۔اور پھر خراب نتیجہ نکلے تو ایسا شخص سزا سے نہیں بچ سکتا۔پس آدمیوں کے انتخاب میں یہ اصول مد نظر رکھنا چاہیے کہ وہی آدمی انتخاب ہو جو اس کام کا اہل ہو۔اگر ایک شخص انسپکٹر مقرر کیا جاتا ہے تو اس میں یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ وہ ایسا شخص ہے کہ لوگ اس کا ادب کرتے ہیں بلکہ یہ دیکھنا چاہیے کہ آیا وہ صبح سے شام تک چل پھر بھی سکتا ہے کہ نہیں۔تاکہ مہمانوں کی تکلیفات کو دیکھ سکے۔اگر روپیہ کے خرچ کے لئے کسی شخص کو مقرر کرتا ہے تو ضروری ہے کہ دیکھا جائے کہ وہ روپیہ کا حساب کتاب بھی رکھ سکتا ہے یا نہیں۔کئی لوگ ہیں کہ ان میں حساب رکھنے کا مادہ نہیں ہوتا۔لوگ میرے پاس امانتیں رکھ جاتے ہیں۔اب تو میں روپیہ محاسب کے دفتر میں بھیج دیتا ہوں پہلے ایک عرصہ تک میں اپنے ہی پاس رکھتا تھا۔کئی دفعہ غلطی ہوئی اور مجھ کو چھ سات ہزار روپیہ بھرنا پڑا وجہ یہ کہ مجھ میں یہ ہمت نہیں ہے کہ ایک کاپی ہر وقت جیب میں رکھوں اور جب کوئی روپیہ لے تو اس کو فوراً نکال کر درج کروں۔جس طرح میں دے کر بھول سکتا ہوں اسی طرح ایک شخص لے کر بھی بھول سکتا ہے۔اب میں امانت کا روپیہ محاسب میں بھجواتا ہوں اور اب مجھ کو ایک پیسہ بھی بھرنا نہیں پڑتا۔پس یہ خطرناک غلطی ہے کہ کام کے اہل نہ منتخب کئے جاویں۔بعض لوگ چل پھر نہیں سکتے۔ان کو بٹالے میں مہمانوں کے استقبال کے لئے بھیجنا غلطی ہے۔بعض لوگوں کو بھیجا گیا اور ہر ایک وہ