خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 407 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 407

دوسرے کے متعلق فیصلہ کرتا ہے۔وہ یقیناً مایوس ہو جائے گا۔سب سے لڑے گا۔اور اس کو کسی میں کوئی خوبی نظر نہیں آئے گی ایسا شخص جو چاہتا ہے کہ ہر ایک شخص جس کو بھی تبلیغ کرے وہ فورا تبلیغ سننے کے ساتھ ہی مان لے لازمی طور پر ایسے شخص کے دل میں مایوسی پیدا ہو جائے گی۔اور اس کا اثر اس پر یہ ہو گا کہ خود بھی محروم ہو جائے گا اور یہ حالت تبلیغ کرنے والے اور جس کو کی جاتی ہے۔دونوں کے لئے خطرناک ہوتی ہے۔چاہیے یہ کہ اگر کوئی اس وقت نہیں سنتا تو اس کے متعلق مایوس نہ ہو۔اور یہ نہ سمجھے کہ یہ آئندہ بھی نہیں سنے گا۔بلکہ اس کو پھر سناؤ اور سمجھو کہ اس وقت اس کی طبیعت اچھی نہیں یا کسی کام میں مشغول ہے۔یا کوئی ایسی بات ہے جس کی وجہ سے یہ میری بات نہیں سنتا۔اس لئے مجھ کو چاہیے کہ اس وقت نہیں تو کسی اور وقت سناؤں۔پس دوسرے وقت جب وہ سن سکے سناؤ اس کے مقابلہ میں دوسرا شخص جو ہمیشہ سنانے کے وقت کو آئندہ کے زمانہ پر ڈالتا رہتا ہے کہ پھر سناؤں گا اور پھر سناؤں گا ابھی وقت نہیں آیا۔وہ بھی کبھی سنا نہیں سکتا۔حتی کہ اس دنیا سے گزر جاتا ہے۔پس ایک تو اس لئے حق کے پھیلانے سے محروم رہتا ہے کہ وہ کہتا ہے میں نے فلاں کو جب کہ دیا تو وہ فورا کیوں نہیں مانتا اور دوسرا اس لئے کہ اسے کہنے کا وقت ہی نہیں ملے گا۔پس کہنے میں سستی نہیں کرنی چاہئیے۔اور منوانے میں جلدی نہیں کرنی چاہئیے۔کیونکہ وہ آج نہیں مانے گا تو کل مانے گا۔کل نہیں تو پرسوں مانے گا۔بعض لوگ متواتر تبلیغ کرنے پر ہیں ہیں بچتیں پچیس سال کے بعد مانتے ہیں۔تو تبلیغ کے کام میں مایوسی نہیں ہونی چاہیے کیونکہ مایوسی کا نتیجہ بڑا ہی خطرناک ہوتا ہے۔مایوس ہونے والے لوگوں کے ذریعہ ہدایت نہیں پھیلا کرتی۔پس کبھی ایک منٹ کے لئے بھی یہ خیال نہیں کرنا چاہیے کہ فلاں شخص نہیں مانے گا۔دیکھو قرآن کریم میں جن لوگوں کے متعلق آتا ہے ختم الله على قلوبهم آخر ان لوگوں کے دلوں کی مہریں بھی ٹوٹیں کہ نہیں۔کیونکہ وہ لوگ مان گئے۔جس وجہ سے مہر لگائی گئی تھی۔اس وجہ کو انہوں نے دور کر دیا۔اس لئے ان کو ہدایت دی گئی۔جو قفل لگاتا ہے۔وہ کھول بھی سکتا ہے۔اور کھولتا ہے۔یاد رکھو جس طرح قفل عارضی ہوتے ہیں مریں بھی عارضی ہوا کرتی ہیں۔جب حالات بدل جاتے ہیں تو مہریں بھی ٹوٹ جاتی ہیں۔پس مبلغ کے لئے مایوس ہونا بہت ہی خطرناک ہے۔وہ سمجھ لے کہ اب نہیں تو پھر مان لے گا۔اور یہ بھی بہت برا طریق ہے کہ تبلیغ کے کام میں ستی کی جائے اور کہا جائے کہ اس سال تو ہم یہ بتائیں گے کہ کسی مصلح کی ضرورت ہے یا نہیں اور پھر اگلے سال یہ کہ مصلح آنا چاہئیے۔اور پھر کئی سال کے چکر کے بعد کہیں گے کہ حضرت مرزا صاحب نے یہ دعوی کیا ہے۔اور پھر بتائیں