خطبات محمود (جلد 7) — Page 406
م منٹ میں ہو سکتا ہے لیکن وہ چھ گھنٹہ صرف کرے اور آہستہ آہستہ کام کرے۔تو اس کی تجربہ کاری مریض کے لئے مفید نہیں ہو سکتی بلکہ وہ مریض مر جائے گا۔پس اگر گھنٹوں کا کام مہینوں پر ڈالا جاوے گا تو وہ کام اچھا نہیں ہو سکتا۔بلکہ خراب ہو گا۔اسی طرح تبلیغ کے کام کے لئے ایک حد تک مبر ضروری ہے اور ایک حد تک جلدی۔میں دیکھتا ہوں جماعت میں دونوں قسم کے آدمی ہیں۔اور اپنی اپنی حد پر ٹھرے ہوئے ہیں۔ایک وہ ہیں جو تبلیغ کرنے میں طول امل سے کام لیتے ہیں۔اور اپنے کام کو تین تین چار چار سال اور اس سے بھی زیادہ پر ڈالتے ہیں۔اور کہتے ہیں کہ یہ کام آہستہ آہستہ ہو جائے گا ان کی آہستگی خواجہ (کمال الدین) صاحب کے لیکچروں کی طرح ہوگی۔نہ گاڑی منزل پر پہنچے گی نہ مسافر اتریں گے۔ایسے لوگ کعبہ کی بجائے ترکستان کی راہ لیتے ہیں۔جیسا کہ خواجہ صاحب احمدیت کی طرف لانے کی بجائے خود غیر احمدیوں کی طرف چلے گئے۔کہ آہستہ آہستہ تبلیغ کرنی چاہیئے لیکن ان لوگوں کی آہستگی آگے کی طرف لے جانے کی بجائے پیچھے کی طرف ہٹاتی ہے۔اور آخر تیزی سے ہلاکت کے گڑھے میں لے جاتی ہے۔یہ نہیں کہ یہ لوگ غیر احمدی یا پیغامی ہو جاتے ہیں یا مخلص نہیں رہتے۔بلکہ ایسے لوگوں میں ایک سستی آجاتی ہے۔چونکہ دین کی اشاعت کے بارے میں ایک حد تک بیکار رہتے ہیں۔اس لئے ان پر ایک قسم کا فالج پڑ جاتا ہے۔اور جیسا کہ مفلوج آدمی زندہ تو رہتا ہے۔مگر بر کار ہو جاتا ہے۔اسی طرح قاعدہ ہے کہ انسان جب تک اپنے اعضاء سے کام نہ لے تو ان میں چستی باقی نہیں رہتی۔بلکہ ہوتے ہوتے گنٹھیا ہو جاتا ہے۔پس یہی حال ان لوگوں کا مذہبی طور پر ہوتا ہے جو تبلیغ کے کام میں سستی کرتے اور تبلیغ کو لمبے عرصہ پر ڈالتے رہتے ہیں۔لیکن ایک اور شخص ہوتا ہے اس کا معاملہ اس قسم کے لوگوں سے الٹ ہوتا ہے۔وہ تیزی سے تبلیغ کرتا ہے۔راستہ میں ایک شخص ملا وہ اس کو کہتا ہے کہ مرزا صاحب نے یہ دعویٰ کیا ہے۔اور ایک آدھ گھنٹہ تبلیغ پر صرف بھی کرتا ہے۔اور جب وہ اس عرصہ میں نہیں مانتا تو کہتا ہے کہ اس کے دل پر مہر ہے۔یہ نہیں مانے گا۔ظاہر ہے کہ اس کو ہر وقت حضرت ابو بکر جیسے لوگ تو مل نہیں سکتے جو سننے کے ساتھ ہی مان لیں۔ایسا جلد مایوس ہو جاتا ہے۔دیکھو ہیرا ایک کوئلہ ہی ہوتا ہے۔جب وہ کان سے نکلتا ہے تو اس کے ماہر جوہری اس پر بڑی محنت کرتے ہیں اور اس کو مشکل سے تیار کرتے ہیں۔تب کہیں وہ اپنی قیمت ہے۔اسی طرح ایک انسان جس کے دل پر طرح طرح کے زنگ لگے ہوئے ہیں۔وہ حکایات جو اس نے باپ دادوں سے سنی ہوتی ہیں۔دل میں رچی ہوتی ہیں۔یہ نہیں ہو سکتا۔کہ پندرہ منٹ کی تبلیغ سے اس قدر زنگ اور خیالات دور ہو جائیں۔وہ کس طرح فورا الا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ شخص اتنی جلدی کمارک