خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 395 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 395

۳۹۵ ہے مال سے محبت کرنے والے مال کے ضائع ہونے پر خود کشیاں کر لیتے ہیں۔مگر جن کو مال سے محبت نہیں ہوتی ان کا مال اگر ضائع بھی ہو جائے تو وہ اس کے غم میں اپنی جان نہیں کھوتے۔اور پھر محنت شروع کر دیتے ہیں۔مال کی محبت میں جان دینے والے مال کو خدا سمجھتے ہیں اور صحابی ہونے والے مال کو خدا نہیں بناتے۔بات یہ ہے کہ انسان قناعت سے غنی ہوتا ہے۔نہ کہ مال سے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بعض دن فاقہ ہوتا تھا۔لیکن کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ آپ کے دل میں کبھی ایک لمحہ کے لئے بھی بے اطمینانی پیدا ہوئی۔ہرگز نہیں۔اس لئے کہ آپ نے زندہ رہنے کو اپنا مقصد نہیں بنایا ہوا تھا۔اور آپ سمجھتے تھے کہ بھوک سے مر جائیں گے تو خدا ہی کے پاس جائیں گے۔پس تم لوگ بھی اپنے دلوں میں خلوص پیدا کرو اور دل کی قناعت حاصل کرو۔میں نے پچھلے سال کہا تھا کہ جو ملازم ہو کے رہنا چاہتا ہے وہ چلا جائے۔یہ بھی ایک قسم کی ناراضگی تھی لیکن اب میں یہ نہیں کہوں گا پچھلے سال مجھے ایسا کہنے کا حق تھا۔مگر اس سال حق نہیں۔کیونکہ اس سال جماعت نے عمل کر کے دکھا دیا ہے کہ وہ ملازم نہیں صحابی بننا چاہتی ہے۔اور اس وقت جو اس بات کو دو ہرا رہا ہوں تو اس کی غرض یہ ہے کہ اس سبق کو بھول نہ جاتا۔کہاں۔در حقیقت جب انسان اللہ تعالیٰ کے لئے ہو جاتا ہے تو اللہ تعالی اس کے لئے خود سامان کر دیتا ہے حضرت مسیح موعود نے الوصیت میں پیشگوئی فرمائی تھی۔کہ مجھے اس بات کا غم نہیں کہ روپیہ سے آئے گا۔بلکہ اندیشہ ہے کہ امانت سے خرچ کرنے والے نہ ہوں۔پس ضرورت ہے کہ ہماری جماعت کے لوگ ہمیشہ صحابیت کا رنگ دکھانے والے ہوں۔اور ایسے ہوں کہ دین کی خدمت میں ان کو جو کچھ بھی ملے وہ اس کو شکر گذاری سے لیں۔میرا اس سے یہ مطلب نہیں کہ وہ مال نہ کھائیں۔وہ اپنے دنیاوی کام کریں لیکن ناجائز طور پر دنیا جمع کرنے کی فکر نہ کریں۔دنیاوی امور میں دوسروں کے حقوق کا خیال رکھیں۔اور ہر ایک معالمہ میں رحم اور حسن سلوک کو مد نظر رکھیں۔اور دین کے معاملہ میں کبھی زیادہ اور کم کا سوال نہ کریں۔میں دیکھتا ہوں کہ ہمارے غریب کارکنوں میں بھی اس بات کا احساس پیدا ہو چلا ہے۔ایک لطیفہ ہے اور اور لطیفے دینی معاملات میں بھی ہو سکتے ہیں اور اسی طرح لطائف بنا کرتے ہیں۔لنگر میں ایک ان پڑھ سا معمولی گذارہ کا آدمی ہے جس کو ۸-۱۴ یا ۱۲ روپیہ ماہوار ملتے ہیں۔اس کا میرے پاس رقعہ آیا کہ میں چندہ میں اپنی ایک ماہ کی تنخواہ دینے لگا تھا۔مجھے ایک شخص نے نصیحت کی ہے کہ میں نہ دوں۔کیونکہ مجھ پر واجب نہیں۔کیا ایسا مشورہ دینے والے کا یہ حق ہے یا نہیں۔اس آدمی کے متعلق لطیفہ یہ ہے جو ایک خوش کن بات بھی ہے۔کہ وہ باہر سے آیا۔اور اس نے دیکھا کہ لنگر کے