خطبات محمود (جلد 7) — Page 394
۳۹۴ توحید کے متعلق اور یہ موقعہ ہی نہیں آنے دیتا کہ مجھے تثلیث کے متعلق وعظ کرنا پڑے لیکن ان کو اس کا علم نہیں کہ میں خصوصیت سے اس طرح کرتا ہوں۔تو ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں۔پس اگر ہمارے ہاں بھی روپیہ کا سوال ہو تو احمدیت کی تبلیغ کرنے والے ہر ایک مذہب سے پیدا ہو سکتے ہیں۔ہندو عیسائی سب ہی مذاہب کے لوگ مل سکتے ہیں۔لیکن اسطرح جب وہ بولیں گے تو دراصل وہ نہیں بولیں گے بلکہ وہ روپیہ بولے گا جو ان کو ملتا ہو گا۔مگر اس میں برکت نہ ہوگی۔اس میں شبہ نہیں کہ عیسائی کہلانے والوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔لیکن جب سے بادشاہتیں اس میں شامل ہوئیں اور روپیہ اس پر خرچ ہونے لگا اس وقت سے عیسائیت گھٹتی گئی ہے۔آج حضرت عیسیٰ کی تعلیم پر چلنے والا ایک بھی عیسائی نظر نہیں آتا۔کیا شیر کی کھال میں اگر بھس بھر کر رکھ دیا جائے تو وہ شیر بن جاتا ہے ہر گز نہیں۔اسی طرح کو پچاس کروڑ عیسائی دنیا میں آباد ہیں مگر حضرت عیسی کی تعلیم پر چلنے والا چونکہ ایک بھی نہیں اس لئے عیسائیت کا خاتمہ ہو گیا۔لیکن اگر بچے عیسائی اس کے خادم ہوتے تو عیسائیت کی یہ حالت نہ ہوتی۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد وہ اسلام کی طرف منتقل ہو جاتی۔پس اگر ہم چاہیں اور روپیہ ہو تو بہت سے آدمی مل سکتے ہیں لیکن جس مذہب کی وہ تبلیغ کریں گے وہ احمدیت نہیں ہوگی بلکہ وہ کچھ اور ہی مذہب ہو گا۔پس ہمارے کارکن سمجھ لیں کہ وہ ملازم اور نوکر نہیں ہیں۔اگر دنیاوی امور میں مخالفین سے نقصان اٹھا کر بھی وہ نوکر ہی رہے۔تو پھر اس سے بڑھ کر ان کے لئے کیا نقصان ہو گا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے ساتھیوں کو اعلیٰ مقام پر لے جانا چاہتے ہیں اور وہ صحابیت کا مقام ہے۔پس اس مقام کو چھوڑ کر ملازمت کا مقام اختیار کرنا صریح نقصان ہے۔ملازم کے مقام سے بڑھ کر صحابی کے مقام پر آنے کا موقع حضرت مسیح موعود کے ذریعہ آیا ہے۔جس سے انسان کو خدا کی عبودیت کا مقام مل جاتا ہے۔اس لئے احباب کو اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔قرآن کریم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جہاں پیار سے خطاب کیا گیا ہے۔وہاں عبداللہ ۲ ہی کے لفظ سے مخاطب کیا ہے۔اس لئے عبد اللہ کا مقام بڑا مقام ہے۔اور اگر انسان کی غلامی سے نکل کر عبد اللہ کا مقام حاصل ہو جائے تو اس سے بڑھ کر نعمت اور کیا ہو سکتی ہے۔اس لئے ہم نے اپنے کام کرنے والوں کا نام کارکن رکھ دیا ہے۔اور یہ سال پہلے سالوں کی نسبت زیادہ اطمینان گذرا ہے۔ملازم کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ مجھے یہ بھی ملے اور وہ بھی ملے لیکن صحابی سمجھتے ہیں ہمیں جو کچھ ملتا ہے ہمیں تو اس کا بھی حق نہیں۔ان کا دل غنی ہو جاتا ہے۔اس لئے وہ کسی تکلیف کو تکلیف نہیں سمجھتے۔لیکن وہ لوگ جنہیں مال کی محبت ہوتی ہے انہیں وہ ہلاکت کی طرف لے جاتی