خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 385 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 385

خص ۳۸۵ جائے گا کہ انہوں نے بددیانتی کی تھی کہ ان کو گھاٹا ہوا۔وہ شخص جس نے شاء اللہ کو خط لکھنا چاہا وہ اپنے ایمان کی حالت کو سوچے۔اس کی مثال ایسی ہی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں دو مسلمان مل کر تجارت کرتے اور اس میں گھانا ہوتا اور ان میں سے ایک ابو جہل کے پاس بغرض فیصلہ مقدمہ لے جاتا۔اور ابو جہل سے جاکر کہتا کہ اے ابو جہل دیکھ یہ ہے محمد کی امت۔ایسا کوئی واقعہ حدیث میں آتا تو ایسے شخص کے متعلق بتاؤ تم کیا کہتے ایسی روایت کو دیکھ کر جو کچھ اس شخص کو ایک مسلمان سمجھتا وہی ایک سچا احمدی اس کو سمجھے گا۔اصل میں لوگوں کی عادتوں کا بھی کاروبار پر اثر ہوتا ہے ایک ادنی درجہ کا زمیندار بھی جو گہیوں کا فصل کاشت کرتے وقت دن رات محنت کرتا ہے۔اور دو چار بیل بھی رکھتا ہے اور ان کو کھلاتا پلاتا ہے اور مہینوں محنت بھی کرتا ہے وہ کم و بیش تمام مصارف ملا کر اپنے اور اپنے بیوی بچوں کے اور بیلوں وغیرہ کے اخراجات پر دو سو سے اوپر روپیہ خرچ کرتا ہے مگر فصل کے کاٹنے پر اس کو دس ہیں من بھی دانے آجائیں تو وہ خوش رہتا ہے اور وہ اس بات کا مطلق خیال نہیں کرتا دو سو روپیہ میں سے پچاس روپیہ آئے ہیں۔لیکن اگر وہی زمیندار دو سو روپیہ تجارت میں لگا دے اور اس کو دس فیصدی گھانا آئے تو اس کو بڑا نقصان سمجھے گا۔اسی طرح اگر تاجر زمین پر اتنا ہی روپیہ خرچ کرے۔اور اس کو اتنا ہی گھاٹا آئے تو وہ کبھی اس کو برداشت نہیں کر سکے گا۔لیکن تجارت میں اس قسم کے گھاٹوں کی پروا نہیں کرے گا۔غرض کاروبار پر عادتوں کا بھی بڑا اثر ہوتا که دو - ہے۔میں نے بتایا ہے کہ سٹور کی جو رپورٹ مجھے پہنچی ہے اس میں پچیس فیصدی کھاتا ہے۔اس کے متعلق تحقیقات ہوگی۔اگر کوئی بددیانتی ثابت ہو تو میں کہوں گا جس کا قصور ہے اس کے خلاف بے شک مقدمہ چلاؤ۔لیکن اس نقصان سے جماعت کے لوگوں میں کم ہمتی پیدا ہونا برا ہے اور پھر بے دینی پیدا ہونا اس سے بھی برا ہے۔کیونکہ یہ صاف بے دینی ہے کہ اپنے جھگڑے کا فیصلہ ثنا اللہ کے پاس پہنچایا جائے۔کاروبار میں کھائے ہوا ہی کرتے ہیں مثلاً جیسا کہ میں نے تاجران حرم کے متعلق بتایا ہے ان کو بھی گھاٹے ہوئے لیکن وہ تجارت کے فن سے واقف ہو گئے ہیں وہ اس قسم کے گھائوں سے دل برداشتہ نہیں ہو سکتے۔جو لوگ تجارت کے واقف ہیں وہ گھاٹوں کی پرواہ نہیں کرتے بلکہ ایک دفعہ کے گھاٹے سے سبق لیتے ہیں۔اس لئے چاہئے تو یہ تھا کہ اگر گھانا ہوا تو اس سے سبق لیتے اور اگر قانون میں نقص تھا تو اس کو دور کرتے۔عقل مند اگر دیکھتا ہے کہ مکان کے کسی حصہ میں نقص ہے تو وہ سارے مکان کو نہیں ڈھا دیتا۔بلکہ اس حصہ کی اصلاح کر لیتا ہے۔دیکھو انگریز لوگ یہاں سے اون لے جاتے ہیں یہاں ٹیکس دیتے ہیں کرایہ ریل اور جہاز دیتے ہیں اپنے ملک میں