خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 348 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 348

65 حقیقی موحد بننے کی نصیحت (فرموده ۲۵ / اگست ۱۹۲۲ء) حضور انور نے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا۔دنیا میں مختلف لوگوں کی مختلف خواہشات ہوتی ہیں۔کوئی مال کے حاصل کرنے کے پیچھے لگ جاتا ہے۔پھر مال کے حاصل کرنے کے مختلف ذرائع ہوتے ہیں۔کوئی کوئی ذریعہ استعمال کرتا ہے کوئی کوئی۔کچھ ایسے ہوتے ہیں جو دنیا میں زمین کو پسند کرتے ہیں۔ان کو دن رات اس کی دھن لگتی رہتی ہے۔کچھ ایسے ہوتے ہیں جن کو عہدوں کو خیال ہوتا ہے۔اور وہ دن رات افسروں کی خوشامدوں میں لگے رہتے ہیں۔کچھ لوگ اس خیال کے ہوتے ہیں کہ لوگ ان کو اچھا کہیں۔کئی لوگ علم کا شوق رکھتے ہیں اور نئی بات کے دریافت کرنے کی فکر میں ہوتے ہیں۔کوئی ایسے ہوتے ہیں کہ ان کو پڑھنے کا شوق ہوتا ہے ان کا یہی شغل ہوتا ہے کہ جو کتاب اٹھائی پڑھنے لگے۔غرض مختلف مقاصد اور میدان ہوتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کا منشاء ہے کہ سب مقاصد کو ترک کر کے اللہ تعالیٰ ہی بندوں کا مقصد بن جائے۔خدا تعالیٰ چاہتا ہے اور سب کام چھوڑ دیں۔اور اسی کو اپنا مقصد بنالیں۔اس کے دو ذریعہ ہیں اول یہ کہ وہ چیزیں بندوں کو چھوڑ دیں دوسرے یہ کہ بندہ ہی ان کو چھوڑ دے اور واقعہ میں یہی دو طریق ہیں کہ ان کے ذریعہ خدا تعالٰی ملتا ہے۔اگر ایک انسان میں نیکی ہوتی ہے۔تو وہ دنیا کو خود چھوڑ دیتا ہے۔اور اگر اس میں گند ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس سے دنیا چھڑا دیتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ جو نبی آتے ہیں وہ بشارتیں بھی لاتے ہیں اور انذار بھی۔بشارت ان کے لئے جو دنیا کو خود چھوڑ دیتے ہیں اور ڈراتے ان کو ہیں جو دنیا کو خود نہیں چھوڑ سکتے۔مصائب آتے ہیں اور ان سے مطلب یہ ہوتا ہے کہ انسان خدا کی طرف متوجہ ہو۔لیکن جو لوگ دنیا کو چھوڑتے ہیں ان پر اللہ تعالیٰ اس لئے مصیبت نہیں ڈالتا کہ ان کو ہلاک کرے۔بلکہ اس لئے ان پر ابتلا لاتا ہے کہ دنیا کو دکھائے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو دنیا میں ہو کر دنیا سے الگ ہیں۔اور یہ اللہ تعالیٰ کے انعام :