خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 312 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 312

57 قیام امن مومن کا فرض ہے (فرموده ۳۰ / جون ۱۹۲۲ء) حضور نے تشہد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا۔دنیا میں اللہ تعالیٰ نے امن اور عدل کے قائم رکھنے کے لئے کچھ قواعد مقرر فرمائے ہیں وہ قوانین اس قسم کے ہیں کہ ان کو نظر انداز کرنے اور ان سے لا پرواہی کرنے سے نہ تو کوئی خود امن سے رہ سکتا ہے نہ دوسرے رہ سکتے ہیں۔تم یہ بات ہر گز نہیں کہہ سکتے کہ بلا امن کے بھی کوئی آرام میسر ہو سکتا ہے۔دنیا میں جتنی بے چینیاں ہیں۔وہ سب بے امنی کا نتیجہ ہیں۔بلکہ بے اطمینانی نام ہی بے امنی کا ہے۔غور کرو جس شخص کی آنکھ۔ناک کان زبان انتڑی۔معدہ پھیپڑا۔جگر۔دل۔تلی وغیرہ سب امن میں ہوں کیا وہ بے آرام ہوا کرتا ہے۔انسان کب بے آرام ہوتا ہے تبھی جب اس کے جسم میں امن نہیں رہتا۔اس کے جسم کے کسی حصہ میں جنگ شروع ہوتی ہے۔وہ تمام بے چینیاں جو جسم سے متعلق ہیں۔تب ہی ہوتی ہیں جب جسم کے کسی حصہ میں بے امنی ہو۔یہی حالت جذبات اور خیالات میں بے چینی کی ہے۔دل کی بے چینی کو اگر دیکھو تو وہ بھی ہے سبب نہیں ہوتی کوئی چیز ہوتی ہے جو اس پر حملہ کرتی ہے۔اور دل کی پیاری چیز کو دکھ پہنچاتی ہے۔تب دل میں بے چینی پیدا ہو جاتی ہے۔رشتہ داروں یا جذبات میں دین کے معاملات میں، تمدنی یا سیاسی حالات میں بے امنی ہی کا نتیجہ بے اطمینانی ہوتی ہے۔کیا وہ ملک بھی غیر مطمئن ہوتے ہیں جن کو کسی دشمن کا خوف نہیں ہوتا اور ان پر کوئی حملہ نہیں کرتا۔غرض یہ بے چینی اور بے آرامی فقدان امن ہی کا نام ہے۔جب امن اٹھ جائے یا اٹھ جانے کا اندیشہ ہو تب بے آرامی ہوتی ہے۔پس کوئی نہیں کہہ سکتا کہ امن کی ضرورت نہیں۔یا ہمیں چین اور اطمینان کی ضرورت نہیں۔ہر ایک شخص کے مد نظر آرام اور اطمینان ہوتا ہے۔اگر ایک بے وقوف اور جاہل سے بھی پوچھا جائے کہ تم آرام و اطمینان چاہتے ہو یا بے آرامی اور بے اطمینانی تو وہ یہی کہے گا کہ مجھے آرام اور اطمینان کی ضرورت ہے انسانی زندگی کی ساری کی ساری کوششیں صرف ہی اطمینان اور آرام کے لئے ہوتی ہیں۔انسان کھانا کیوں کھاتا ہے۔کپڑا کیوں پہنتا ہے۔مکان کیوں بناتا ہے۔علم کیوں پڑھتا