خطبات محمود (جلد 7) — Page 288
۳۸۸ کے پاس جائے جو اعلیٰ درجہ کا تجربہ کار ہو۔تیسری بات جو قرب الہی کے لئے ضروری ہے۔وہ یہ ہے کہ ان کا سوال عنی ہو۔یعنی ان کی غرض محض خدا تعالیٰ کو پانا ہو۔کئی اغراض کے ماتحت لوگ مذاہب میں داخل ہوتے ہیں۔بعض لوگ محض ایک جماعت میں منسلک ہونے کے لئے۔بعض اخلاق فاضلہ کے لئے بعض معاشرة یا تمدن کے خیال سے۔مگر یہاں فرمایا کہ ان کا سوال محض خدا تعالیٰ کی ذات کے بارے میں ہو کہ خدا کس طرح مل سکتا ہے۔اس مذہب دوسرے اغراض کے لئے نہیں۔بلکہ محض خدا کے لئے اختیار کیا جائے۔ہاں اگر دوسرے فوائد حاصل ہو جائیں تو ہو جائیں۔مذہب سے غرض دوسرے فوائد نہیں ہونے چاہئیں بلکہ محض خدا ہونا چا ہئیے۔یہ پہلا مقام ہے جو قرب الہی میں حاصل کرنا ضروری ہے۔یاد رکھو عربی زبان کا قاعدہ ہے کہ جب انا کے بعد (ف) آتی ہے۔تو اس کے معنی ہوتے ہیں کہ پہلے کام کے نتیجہ سے یہ ہوگا پس فانی قریب کے یہ معنی نہیں ہیں کہ اس اللہ قریب ہے۔بلکہ یہ بھی ہیں کہ جب یہ تین باتیں جمع ہو جائیں یعنی سوال کریں کہ ہمیں خدا کی جستجو کی ضرورت ہے۔پھر تجھ سے سوال کریں۔اور میری ذات کے لئے کریں۔فلاسفروں سائنس دانوں سے یا عیسی یا موسیٰ سے نہیں۔بلکہ تیرے پاس آئیں قرآن کے پاس آئیں۔احادیث میں ڈھونڈیں یا تیرے خلفاء کے پاس آئیں۔تیسری بات یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے متعلق دریافت کریں کہ خدا کیونکر مل سکتا ہے۔فرمایا جب یہ تغیرات ہو جائیں تو اس کا نتیجہ ہوتا ہے۔میں اس کے قریب ہو جاتا ہوں۔کسی کو یہ غرض نہ ہو کہ مال مل جائے۔یہ خواہش نہ ہو کہ جماعت مل جائے گی۔بلکہ خدا کی تلاش ہو تو ان تینوں باتوں کے نتیجہ میں میں قریب ہو جاتا ہوں۔یہ پہلا مقام ہے۔پھر فرمایا اجیب دعوة الداع اذا دعان اس کے بعد لازمی نتیجہ کیا ہے اور نتیجہ کیا نکلتا ہے۔آپ لوگوں میں سے بہت سے لوگ جنگلوں میں نہیں گئے ہونگے مگر میں گیا ہوں۔جب کوئی ساتھی دور چلا جاتا ہے تو پھر انسان اس کی تلاش کرتا ہے۔کوئی شخص ملے تو اس سے پوچھتا ہے کہ کیا ایسی شکل ایسی نوپی ایسے قد کا آدمی تو تم نے نہیں دیکھا ہے۔جب وہ کہتا ہے کہ ہاں دیکھا ہے۔اور قریب ہی جاتا ہے تو انسان بے اختیار ہو کر آواز دیتا ہے او نور محمد " مثلاً اس کا نام نور محمد ہے تو فوراً اس کو پکارتا ہے۔کہ وہ اور آگے نہ چلا جائے۔اور وہ آگے سے جواب دیتا ہے۔ادھر آجاؤ۔میں یہاں ہوں۔اسی طرح جب خدا سے ملنے کی خواہش انسان میں پیدا ہوتی ہے تو وہ | طبیعی