خطبات محمود (جلد 7) — Page 266
مچا دے کہ سانپ آگیا یا یونسی اٹھ کر پیٹنا شروع کر دے تو کئی لوگ بھاگ جائیں۔کیونکہ بے دھیان بیٹھے ہیں صحابہ بھی اس وقت بے دھیان تھے اس وقت رسول کریم نے حضرت عباس سے کہ ان کی آواز بہت بلند تھی کہا کہ بلند آواز سے کہو اے انصار خدا کا رسول تم کو بلاتا ہے بارہ ہزار کا لشکر بھاگ رہا ہے جانوروں کی خوف سے یہ حالت کہ روکنے سے رکتے نہیں اس وقت یہ آواز ایسی معلوم ہوئی کہ گویا اسرائیل صور بجا رہے ہیں۔اس وقت یہ کیفیت ہوئی کہ ہم جانوروں کو موڑتے تھے اگر۔مڑتے تھے تو خیر ورنہ تلوار سے ان کی گردن کاٹ کر الگ کر دیتے اور کود کر پیدل دوڑ پڑتے۔۔۔یہ محبت اور اخلاص کیا اس شخص سے ہو سکتا ہے جس کے متعلق انسان کا یہ خیال ہو کہ وہ ظالم ہے اور جس کے متعلق سمجھتا ہو کہ میں جس طرح چاہتا تھا کھاتا پیتا تھا اس نے تحکم سے کہا جس طرح میں کہوں اس طرح کھانا پینا ہو گا (پھر بھی جو چاہتا تھا کھاتا پیتا تھا اس نے کہا نہیں میں جو کہوں گا وہ کھانا اور پینا ہو گا۔) میں اپنے مال کو جہاں چاہتا تھا خرچ کرتا تھا مگر اس نے کہا جہاں میں کہوں گا وہاں خرچ کرنا ہو گا کیونکہ میں خدا کا قائم مقام ہوں اس طرح میری حرمت چھن گئی کہا گیا کہ جو ہم کہیں گے وہی تم کو کرنا ہو گا میرا قانون وہ تھا جو میں بناتا تھا اس نے کہا نہیں میں تمہیں جو قانون دوں گا وہ دو قسم کا ہوگا۔ایک تو وہ جو خود خدا نے تمہارے لئے مجھے دیا ہے اس پر عمل کرنا ہو گا اور دوسرا وہ جو خدا کے قانون سے نکال کر میں تمہیں دوں گا اس پر عمل کرنا ہو گا۔تجھے اپنے رشتہ داروں سے الگ ہونا ہوگا اور اپنے وطن کو چھوڑنا ہوگا۔تیرا وطن وہ ہو گا جو میں تیرے لئے تجویز کروں گا۔غیر ممالک میں خدمت دین کے لئے جانا ہو گا۔اگر مسلمان نبی کریم کے متعلق اس قسم کے خیالات کرتے اور ظلم کو آپ کی طرف منسوب کرتے تو آپ کے بلانے پر اس طرح آپ کے گرد جمع نہ ہوتے۔اگر وہ نمازیں پڑھنے۔زکوۃ دینے۔وطن چھوڑنے کو ہلاکت سمجھتے۔جہاد فی سبیل اللہ کو تباہی جانتے اور ان احکام کو لعنت سمجھتے تو کبھی وہ ایسے جاں نثار نہ ہوتے بلکہ ان کا جاں شار ہونا بتلاتا ہے کہ انہوں نے تجربہ کر لیا تھا کہ یہ احکام زحمت کے لئے نہیں۔بلکہ سکھ کے لئے ہیں۔اگر مشاہدہ کر کے اور اپنی عقلوں سے نہ سمجھ لیتے کہ ان نقصانات کے مقابلہ میں وہ فوائد زیادہ ہیں۔اور ان فوائد کے مقابلہ میں ہماری تمام قربانیاں حقیر ہیں۔تو وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کو لعنت خیال کرتے۔خدا کے احکام پر ہمارے پیٹروؤں نے ہم سے پہلے عمل کر کے گواہی دی ہے کہ یہ احکام انسان کے دکھ کے لئے نہیں بلکہ عین راحت کے لئے ہیں۔اور خدا کے ان فضلوں میں سے ہیں۔جو انسان کی ترقی کے لئے ہیں۔لیکن ہمیں اپنے اندرونے پر غور کرنا چاہئیے۔کہ آیا ہم ان احکام کو خوشی سے بجا لاتے ہیں اور ہم ان احکام کی بجا آوری میں راحت خیال کرتے ہیں اور ہماری راحت ایسی ہی ہے