خطبات محمود (جلد 7) — Page 168
- جتنا کوئی اس کا نام بلند کرتا ہے خدا اس سے زیادہ اس کا نام بلند کر دیتا ہے۔تاکہ خدا تعالیٰ کا احسان اپنے بندہ پر رہے۔بندہ کا خدا پر نہ رہے۔تو سابقون کا خدا تعالیٰ نے ایک حق رکھا ہے۔وہ خواہ دوسروں کی نسبت کام کے لحاظ سے ادنیٰ بھی ہوں۔تو بھی خدا نے ان کا حق مقرر کیا ہے۔تاکہ خدا پر ان کا احسان نہ رہے۔اس لحاظ اور حق کے متعلق دونوں قسم کی مثالیں ملتی ہیں۔یعنی ایک یہ کہ جہاں برابر کا مقابلہ ہو وہاں سابقون کو ترجیح دی گئی ہے۔اور دوسرے جہاں برابری نہیں بلکہ سابق ادنی اور دوسرے اعلیٰ ہوں۔وہاں بھی سابق کو ہی ترجیح دی گئی ہے۔اور یہ دونوں مثالیں ان لوگوں میں پائی جاتی ہیں جن کے اعمال کے اعلیٰ ہونے کو مسلمان تسلیم کرتے ہیں۔اور دو مثالیں تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت بھی ملتی ہیں۔ایک دفعہ حضرت عمرؓ اور حضرت ابو بکر کی لڑائی ہو گئی۔کسی بات پر جھگڑا ہو گیا۔حضرت ابو بکر کو خیال آیا میں ہی در گذر کر دیتا تو بات نہ بڑھتی۔چلو اب میں معافی مانگ کر صفائی کر لیتا ہوں۔اس پر انہوں نے حضرت عمر سے معافی مانگی۔حضرت عمر اس وقت غصہ میں تھے انہوں نے معافی نہ دی۔حضرت ابو بکر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔اور آکر عرض کی کہ عمر سے میرا جھگڑا ہو گیا ہے۔اور میں اپنا قصور تسلیم کرتا ہوں۔مگر عمر مجھے معاف نہیں کرتے۔حالانکہ واقعہ کو دیکھنے سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ ان کا قصور نہ تھا۔زیادتی حضرت عمر کی تھی مگر انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہی کہا کہ میرا قصور ہے جس کی میں معافی مانگتا ہوں مگر عمر مجھے معاف نہیں کرتے۔اب دیکھو حضرت ابو بکڑ کہتے ہیں میری غلطی ہے۔اس طرح گویا سابق (ابوبکر) نیچے ہے اور دوسرا ( عمر ) اوپر اور رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو علم الغیب نہیں کہ آپ باوجود حضرت ابو بکر کے اقرار کے کہ غلطی ان کی ہے۔حضرت عمر کی غلطی سمجھتے۔لیکن جب حضرت عمرؓ آئے تو کہتے ہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ غصہ سے ایسا تمتما رہا تھا کہ جیسا کبھی کم دیکھنے میں آیا ہے۔اور آپ نے حضرت عمر کو دیکھتے ہی فرمایا۔تم کو کیا ہو گیا ہے۔مجھے اور ابو بکڑ کو نہیں چھوڑتے۔حالانکہ ابو بکڑوہ ہے کہ جب تم خدا کی باتوں کا انکار کر رہے تھے تو یہ تصدیق کر رہا تھا۔۔۔یہ سابق کے متعلق رسول کریم کا فیصلہ ہے کہ اگر ان کی غلطی بھی تھی تو بھی حضرت عمر کا یہ کام تھا کہ معافی مانگتے۔نہ کہ معافی مانگنے پر بھی معاف نہ کرتے اس سے معلوم ہوتا ہے۔کہ رسول کریم نے حضرت عمر کے مقابلہ میں حضرت ابو بکر کا حق تسلیم کیا ہے۔اور ایسا ہونا ضروری بھی ہے۔کیونکہ سابقون دین کے عمود ہوتے ہیں ان کا حق مٹنے سے دین کی ہتک ہوتی ہے۔ان کا کام دوسروں تک خدا تعالیٰ کا کلام پہنچانا اور دین کو قائم رکھنا ہوتا ہے۔اور دوسرے ان کے ذریعہ سے حق سے ستفیض ہوتے ہیں۔اور دین کے مغز کو سابقون نے محفوظ رکھا ہوتا ہے۔پھر کیا ان کا حق نہیں ہوتا