خطبات محمود (جلد 7) — Page 131
۱۳۱ یہ ملازم“ اور ”نوکر" کا لفظ بولتے ہی وہ تمام باتیں ذہن میں آجاتی ہیں۔جو دنیاوی کاروبار کرنے والے نوکروں سے تعلق رکھتی ہیں۔یا دنیا کے نوکروں اور ملازموں کے جو حالات ہوتے ہیں ان کو سامنے لاکر یہ لوگ بھی خیال کرتے ہیں کہ ہمیں بھی ایسے ہی حالات میں ہونا چاہیئے۔اور اس وجہ سے وہ اپنا اصل کام جو خدمت دین ہے بھول جاتے ہیں۔ان کی ایسی ہی حالت ہوتی ہے جیسے بچے کھیلتے ہوئے ایک کھیل کا نام ”ہوا" رکھتے ہیں۔مگر جب انہی میں کوئی لڑکا ہوا بن کر ہو ہو کرتا ہے تو بعض لڑکے واقعہ میں ڈر جاتے اور رونے لگتے ہیں۔حتی کہ بے ہوش جاتے ہیں۔اس کی وجہ یہی ہوتی ہے کہ انہوں نے جس کا نام ہوا رکھا ہے۔وہ اصل بھول جاتا ہے۔اور نام غالب آجاتا ہے۔حالانکہ اول تو وہ اسے شروع ہی کھیل کے طور پر کرتے ہیں۔اور پھر دیکھتے ہیں۔کہ ہم میں سے ہی ایک لڑکا ہے۔لیکن نام کا ان پر ایسا اثر ہوتا ہے کہ رونے لگتے ہیں۔یہی حال ایسے لوگوں کا ہوتا ہے۔ان پر بعض باتیں ایسا اثر کرتی ہیں کہ وہ حقیقت کو بھول جاتے ہیں۔اور یہ بات دنیا کے کاموں میں اس کثرت کے ساتھ پھیلی ہوئی ہے کہ مجھے مثالوں کے ذریعہ اسے واضح کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔پھر یہ یہ ایک وسیع مضمون ہے۔اگر میں اس کی طرف متوجہ ہو گیا۔تو جو بات آج بیان کر رہا ہوں وہ رہ جائے گی۔بات یہ ہے کہ لوگ جو نام اختیار کرتے ہیں باوجود اس کے کہ اس کی خصوصیات ان میں نہ پائی جائیں اس کا ان پر اثر ہوتا ہے۔اور آہستہ آہستہ اس کی خصوصیات ان میں پیدا ہو جاتی ہیں۔کسی کو بادشاہ بادشاہ کہنے لگ جاؤ۔کچھ عرصہ میں اس کی چال رفتار اور گفتار میں زمین آسمان کا فرق پڑ جائے گا۔نوکر اور ملازم کا لفظ ایسا ہے کہ اپنے اندر کچھ خصوصیات رکھتا ہے۔بعض ایسے بھی الفاظ ہوتے ہیں جن کی خصوصیات کم ظاہر ہوتی ہیں اور انکی خصوصیات سے کم لوگ واقف ہوتے ہیں۔لیکن نوکر کا لفظ چونکہ عام ہے۔لوگ خود نوکر رکھتے ہیں۔اور نوکر رہتے ہیں۔دوسروں کو نوکر ہوتا دیکھتے ہیں۔نوکروں سے ملتے ہیں۔گفتگو کرتے ہیں اس لئے اس کی خصوصیات سے سارے لوگ واقف ہیں۔اور جب یہی لفظ ہمارے ہاں کام کرنے والے اپنے متعلق سنتے ہیں۔تو یہ بات ہی بھول جاتے ہیں کہ وہ قادیان کس غرض کے لئے آئے۔اور ان کا کام اور مقصد کیا ہے۔نوکر نوکر اور ملازم ملازم کا لفظ آہستہ آہستہ ان کی عقل پر پردہ ڈال دیتا ہے۔اور وہ بھول جاتے ہیں۔کہ وہ کیوں یہاں آئے۔یہاں کام کرنے والوں میں سے شاید ہی کوئی ایسا ہو جو ملازمت کی غرض سے یہاں آیا ہو۔اور ان میں سے کئی ایسے ہیں۔کہ اگر باہر کام کرتے۔تو انہیں بہت زیادہ تنخواہ ملتی۔اور اچھی ملازمت حاصل کر لیتے۔مگر اس لفظ نے ان کی عقل پر پردہ ڈال دیا اور وہ اپنے آپ کو ملازم کی حیثیت سے