خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 41 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 41

ام حقیقت ہے کہ درخت چھوٹے بیج ہی سے پیدا ہوا کرتا ہے۔یہی حال آسمانی سلسلوں کا ہوتا ہے۔یہ سلسلے بھی چھوٹے بیج سے پیدا ہوتے ہیں۔اور وہ بیج اتنے چھوٹے ہوتے ہیں کہ ان کو ننگی آنکھ نہیں دیکھ سکتی۔جس طرح درختوں کے بیج کا بڑھنے والا ذرہ خوردبین سے نظر آتا ہے۔الہی سلسلوں کا بیج بھی خاص نگاہ ہی سے نظر آتا ہے جس طرح ایک دانا آدمی ایک پیج کو دیکھ کر فیصلہ کرتا ہے کہ اس میں وہ قوت ہے۔جس سے ایک بڑ کا درخت پیدا ہو گا اور بڑھ کر پھیل جائے گا اور ہزاروں پرند اس میں بسیرا کریں گے اسی طرح وہ لوگ جن کو بصیرت ملی ہوتی ہے الہی سلسلوں کے بانیوں کی بیچ ہی کی حالت دیکھ کر مان لیتے ہیں۔جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے رسول اللہ ہونے کا دعویٰ کیا۔اور ایک شخص نے بطور تمسخر حضرت ابوبکر کے پاس ذکر کیا۔تو آپ نے محض یہ خبر سن کر ہی آنحضرت کے دعوی کی تصدیق کی اور ایک لحظہ کے لئے بھی شک نہیں کیا۔جس طرح ڈاکٹر پیج کی حالت کو مشاہدہ کرتا ہے۔اسی طرح روحانی خوردبین رکھنے والے دیکھ لیتے ہیں کہ یہ سلسلہ قائم ہونے والا ہے۔چنانچہ ابو بکر صدیق نے اس وقت تصدیق کی جبکہ بیج نے سر بھی نہیں نکالا تھا۔نہ سبزی نکلی تھی۔نہ شگوفہ محض ابھی سویا بیچ تھا۔جس وقت لوگوں نے نفسی کی۔اس وقت ابو بکر نے پہچان لیا۔یہی حال حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا ہوا۔جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو الہام ہوا تو آپ خود لرزاں تھے کہ کہیں خدا کی طرف سے ابتلاء نہ ہو۔اس وقت خدیجہ صدیقہ نے کہا کہ آپ ایک فیض رساں وجود ہیں خدا آپ کو ضائع نہیں کرے گا۔اے اور یہی حال حضرت علی کا ہوا۔انہوں نے بھی ابتدا ہی میں آپ کی تصدیق کی اگرچہ لوگوں نے نہیں اڑائی۔کہ ایک دوست اور بیوی اور بھائی کی تصدیق سے گویا یہ بڑے ہو گئے۔مگر جو کچھ ان تینوں کو پہلے نظر آیا تھا وہ تھوڑے عرصہ کے بعد آہستہ آہستہ لوگوں کو نظر آنے لگا۔مگر پہلے وہ ہنسی میں اڑاتے تھے۔لوگوں نے بعد میں کہا۔اور اب بھی کہتے ہیں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) ایک ہوشیار آدمی تھے۔اس لئے دنیا ان کے ساتھ ہو گئی۔مگر ہم کہتے ہیں کہ تمہارے باپ دادا جو آپ کے مخالف تھے وہ تو ابتدا میں اس بات کے ماننے کے لئے تیار نہ تھے۔وہ تو ہنتے تھے۔اگر انسانی کوشش اور انسانی چالاکی سے یہ کام ہو جانے والے تھے۔تو تمہارے باپ دادوں نے کیوں نہ اس کو مان لیا۔وہ تو پاگل ہی بتاتے تھے۔غرض جتنے سلسلہ بھی ہوتے ہیں ان کے ساتھ یہی سلوک ہوتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مثال تو تاریخ سے ثابت اور واضح طور پر ملتی ہے۔عیسی علیہ السلام نے جب دعویٰ کیا تو یہود نے آپ پر ہنسی اڑائی۔موسیٰ علیہ السلام کے واقعات خود قرن کریم میں ملتے ہیں۔آپ پر فرعون ہنسی اڑاتا تھا اور کہتا تھا۔کہ اس کو کیا ہو گیا۔یہ ہماری روٹیوں پر پلا۔اس کی قوم ہماری غلام۔ہم