خطبات محمود (جلد 7) — Page 370
نہیں سمجھ سکتے کہ تم خدا کے پیارے ہو ہاں اگر تمہاری کوئی بات ان پر اثر کر سکتی ہے تو یہی کہ تمہارے اخلاق ان سے اعلیٰ ہوں۔وہ عبادت کو نہیں جانتے اخلاق کو جانتے ہیں۔واقعہ میں مذہب کی کوئی چیز دوسرے پر اثر ڈالنے والی نہیں بجز اخلاق کی خوبی کے۔اگر ایک شخص احمدی ہوتے ہی اخلاق کو درست کرتا ہے۔خیانت، غضب، معالمہ میں زیادتی کرنے کو چھوڑ دیتا ہے۔اور دوسرے کے حقوق محبت اور پیار سے ادا کرتا ہے۔تو دیکھنے والوں پر اثر ہو گا کہ احمدیت بھی کوئی چیز ہے۔تمہارا احمدی ہو کر نماز با قاعدہ پڑھنا ایک مسلمان پر اثر کرے گا۔مگر ہندو پر اس کا اثر نہیں ہو گا غیر احمدیوں میں بھی نمازیں پڑھنے والے ہیں۔مگر ایک ہندو اور ایک عیسائی کے نزدیک ان کا کوئی درجہ نہیں ہے ہاں جو شخص کسی سے معالمہ کرتا ہے اور قربانی کرتا ہے۔کسی کی گالی کو برداشت کرتا ہے لوگوں کو ستاتا نہیں۔کسی کی امانت کو کھاتا نہیں۔کس کا قرضہ تکلیف اٹھا کر بھی خوشی سے ادا کرتا ہے۔اس سے ایک ہندو اور ایک عیسائی پر اثر ہو گا۔اور وہ کہے گا کہ احمدیت نے اس میں ایک ایسی بات پیدا کر دی ہے جو میرے مذہب نے میرے اہل مذہب میں پیدا نہیں کی۔اگر یہ بات نہیں تو ہزار ناک رگڑا جائے ہندوؤں پر اس کا کوئی اثر نہیں ہو سکتا۔دیکھ لو ہندوؤں میں لوگ الٹے لٹکتے ہیں۔اور الٹے لٹکے ہوئے ہی اپنے کام کرتے ہیں۔میں نے ہندوؤں میں ایسے لوگ دیکھتے ہیں جو الٹے لٹکتے اور سردی میں ٹھنڈے پانی میں بیٹھ جاتے اور گرمی میں اپنے ارد گرد آگ جلا لیتے ہیں۔کیا تم ان لوگوں کی اس قسم کی نفس کشی سے خیال کرتے ہو کہ ہندو مذہب سچا ہے۔ان کی ان عبادتوں کا تم پر اثر نہیں ہوتا۔اگر سارے ہندو بھی اس طرح کریں۔تو تم پر اس کا کچھ بھی اثر نہیں ہو سکتا۔بلکہ تم ان کو پاگل کہو گے۔اسی طرح تمہاری نماز اور تمہارے حج کو وہ تمہارا پاگل پن سمجھتے ہیں۔ایک ہی بات ہے جس کا غیر مذہب کے لوگوں پر اثر ہو سکتا ہے۔اور وہ یہ ہے کہ اخلاق درست ہوں۔اگر اخلاق درست ہوں گے تو یہ نہ صرف تمہارے لئے بہتر ہو گا۔بلکہ دوسروں کے لئے بھی مفید ہو گا۔وہی اعلیٰ درجہ کا مبلغ ہے۔جس کے اخلاق درست ہیں۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہماری جماعت میں بہت سے ایسے لوگ ہیں جو معاملات میں قربانی کرتے ہیں اور ان کی حالت پر رشک آتا ہے۔مگر کئی ایسے ہیں جو ان معاملات پر توجہ نہیں کرتے۔وہ لوگ نام کے احمدی ہیں۔احمدیت ان کے دل میں نہیں ہے۔وہ منافق لوگ ہیں۔اور لڑائیوں میں ان کی زبان درست نہیں رہتی مگر مجھے ان پر اس قدر افسوس نہیں جتنا ان پر ہے جو بد معاملگی دیکھتے ہیں اور اس کو روکنے کی کوشش نہیں کرتے۔اور گالیاں سنتے ہیں۔اور ان کو روکنے کے لئے ہاتھ نہیں اٹھاتے۔