خطبات محمود (جلد 7) — Page 313
اور محنت اور مشقت کیوں برداشت کرتا ہے۔اس لئے کہ اس کو آرام ملے دنیا کے سب کے سب کام آرام اور خوشی کے حصول کے لئے ہوتے ہیں۔اور یہ ظاہر ہے کہ خوشی بغیر امن کے نہیں میسر آسکتی۔کیونکہ ہر قسم کی بے چینی امن ہی کے اٹھ جانے کا نام ہے۔اس لئے انسانی کوششوں کو وہ شخص لغو قرار دیتا ہے جو کہتا ہے کہ امن کی ضرورت نہیں۔جب تک جسم امن میں نہ ہو۔روح امن میں نہ ہو۔متعلقین امن میں نہ ہوں۔انسان امن میں نہیں ہوتا۔کسی حصہ میں بے امنی ہو تو انسان بے امنی کی حالت میں ہوتا ہے۔پس امن کا قائم رکھنا ضروری ہے۔اس کے قیام سے انسان کی زندگی خوش اور مطمئن زندگی ہوتی ہے۔کئی دفعہ لوگ دھوکا کھاتے ہیں جبکہ وہ اس قسم کے واقعات کو دیکھتے ہیں کہ ایک جنگ کر کے بھی امن قائم کیا گیا۔وہ کہہ دیتے ہیں کہ امن تو جنگ کے ذریعہ قائم ہوتا ہے۔اصل میں وہ اس بات کو سمجھتے نہیں ہیں۔اصل یہ ہے کہ خدا کا قانون جاری ہے کہ چھوٹی چیز کو بڑی کے لئے قربان کیا جاتا ہے دیکھو انسان بیمار ہوتا ہے۔اور حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ صدقے سے بیماریاں اور عذاب دور ہو جاتے ہیں۔چنانچہ لوگ جانور ذبح کرتے ہیں۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ خوں ریزی کا نتیجہ امن ہے بلکہ امن نام ہے بڑی بے چینی کے دور کرنے کا اور وہ چھوٹی بے چینی یا خوں ریزی کے ذریعہ دور ہوتی ہے ایک ملک جو دوسرے کے مقابلہ میں اس لئے اٹھتا ہے کہ اس پر قبضہ کرے اور اس کو اپنے پیروں تلے روند ڈالے۔اور وہاں کے لوگوں کو اپنا غلام بنائے۔اب ظاہر ہے کہ غلامی ایک بڑی مصیبت ہے کیونکہ اس میں روح اور جسم دونوں پامال ہوتے ہیں۔جو قوم بغیر کسی عذر ظاہری کے اپنے ملک کی توسیع کے لئے بڑھے وہ کبھی مفتوح قوم کے فوائد کو مد نظر نہیں رکھے گی۔بلکہ ہر ایک حالت میں اس کو اپنے ہی فوائد مد نظر ہوں گے۔ایسے حالات میں اگر چھوٹا ملک لڑے تو وہ حق بجانب ہو گا۔اور اس جنگ میں اس کو خوں ریزی کرنی پڑے گی جس سے اس پر سے ایک بلا دور ہو جائے گی۔اس پر کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ امن نتیجہ ہے فساد کا اور خوں ریزی کا بلکہ یہ خونریزی اور فساد ایک اور بڑی خونریزی اور فساد سے بچانے کے لئے کی گئی۔یا مثلاً ایک شخص کی آنکھ دکھتی ہے۔ڈاکٹر اس میں کاسٹک یا کوئی اور تیزاب وغیرہ لگاتا ہے جس سے وہ گندا مواد خارج ہو جاتا ہے۔یا جسم کے کسی حصہ میں پیپ پڑ جاتی ہے۔اس پر پلٹس باندھی جاتی ہیں۔یا وہاں نشتر لگائی جاتی ہے۔اس کاسٹک یا نشتر یا پلٹس کا نتیجہ صحت نہیں۔بلکہ ان کے ذریعہ جسم میں ایک خراش پیدا کی گئی ہے۔جس نے جسم کو مرض کے شدید حملوں سے محفوظ کر دیا ہے۔مگر لوگ اس بات کو نہیں سمجھتے۔شائد وہ امن کو ضروری چیز نہیں سمجھتے۔جنگ وہیں کی جاتی ہے جہاں جنگ نہ کرنے کی صورت میں ایک۔21 >