خطبات محمود (جلد 7) — Page 213
۲۱۳ 40 یہ مساوات کا زمانہ ہے (فرموده ۰ار فروری ۱۹۲۲ء) تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا۔کو پیچھے جو مجھے چوٹ لگی تھی اس کی وجہ سے میں ایک حالت میں کھڑا نہیں ہو سکتا۔کیونکہ کھڑے ہونے سے سر پر اثر ہوتا ہے۔اور اس کی وجہ سے حلق میں تکلیف ہوتی ہے۔مگر باوجود اس تکلیف کے ایک اہم مضمون ہے۔جس کی طرف جماعت کے احباب کو توجہ دلاتا ہوں۔جب کبھی لوگوں کو اس امر ظاہر سے غافل دیکھتا ہوں۔تو حیران ہوتا ہوں۔وہ امر اسلام کی فضیلت کا کھلا نشان ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت کا باعث ہے بہت سے لوگ اصولی طور پر اس کو بیان کرتے ہیں۔مگر چسپاں کرنے میں غلطیاں کرتے ہیں۔وہ کیا فضیلت ہے؟ قرآن کریم میں اس کو بیان کیا گیا ہے۔فرمایا الحمد لله رب العالمین سب تعریفیں اللہ کے لئے ہیں۔جو کہ رب العالمین ہے تمام جہانوں کی ربوبیت وہی کرتا ہے وہ ہندوستانیوں ایرانیوں، افغانیوں جاپانیوں انگریزوں ، افریقنوں، امریکیوں سب کا رب ہے۔کالے رنگ والوں کا بھی ، چھوٹوں کا بھی بڑوں کا بھی۔غرض کوئی قوم نہیں جس کا وہ رب نہیں۔اس کے یہ معنی نہیں کہ وہ جانوروں کا رب نہیں جانوروں کا بھی رب ہے۔مگر چونکہ جانوروں کے رب ہونے پر بحث نہیں۔سب مانتے ہیں۔کہ وہ جانوروں کا رب ہے۔یہ بحث نادانی سے انسانوں ہی میں پیدا ہوئی ہے۔یہودی کہے گا کہ ہند کے بکرے کا بھی خدا ایسا ہی رب ہے۔جیسا کہ شام کے بکرے کا۔مگر ہندوستانی کے لئے وہ یہ نہیں مانے گا۔ایک گھوڑے ایک گائے کے متعلق تو خدا کی ربوبیت کا قائل ہے مگر انسان کے متعلق نہیں۔کیونکہ وہ کہتا ہے کہ نجات کا دروازہ تو صرف میرے ہی لئے کھلا ہے۔کہاں تو وہ سور کے متعلق بھی کہتا ہے کہ اللہ اس کا رب ہے اور کہاں آدمی کے رب ہونے سے بھی منکر ہے۔تو جانور کے متعلق اختلاف نہیں۔اگر اختلاف ہے تو وہ بہت مخفی ہے۔پس اللہ تعالی تمام انسانوں کا رب ہے۔پھر بھی اس کی ربوبیت تمام جہان کے لئے رسول کریم