خطبات محمود (جلد 7) — Page 167
146 کردہ عدالت کے سامنے اس معاملہ کو پیش کیا جائے۔ورنہ محض گمان کی بنا پر کسی پر الزام لگانے کی صورت میں عجیب رنگ اختیار کیا جاتا ہے۔اس طرح تو یہ حالت ہوتی ہے کہ اسے درجہ تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی بڑھ کر دیا جاتا ہے۔اور حملہ ابو جہل سے بھی بدتر سمجھ کر کیا جاتا ہے۔اس صورت میں کیا تعجب ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی حملہ کردو کیونکہ جب وہ شخص جسے رسول کریم سے بڑھ کر درجہ دیا جاتا ہے۔اس پر حملہ کیا جاتا ہے۔تو رسول کریم پر حملہ کرنا کونسا مشکل ہو گا۔اب میں یہ بتاتا ہوں کہ کام کے لئے وہ کون سے قوانین مقرر ہیں کہ جب ان کو مدنظر رکھا جائے تو اور بھی رائے کی کمزوری اور نقص معلوم ہو جاتا ہے اور پتہ لگ جاتا ہے۔کہ وہی صحیح طور پر رائے قائم کر سکتا ہے جس کے ہاتھ میں کام ہوتا ہے۔یہ تین باتیں ہیں جن کے ماتحت کوئی تقسیم کی جاتی ہے اور یہ تینوں امور میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے اور قرآن کریم سے ثابت کر سکتا ہوں۔اور حضرت مسیح موعود کے عمل اور عقل سے ثابت کر سکتا ہوں۔کہ جب کوئی کام اختیار کرے تو ان کا مد نظر رکھنا ضروری ہے۔اگر کوئی مد نظر نہیں رکھتا۔تو دنیا کی نظر میں تو میں نہیں کہتا۔خدا کی نظر میں وہ اچھا نہیں ہو گا۔ہر دینی کام اور سلسلہ میں ان کا مد نظر رکھنا ضروری ہے۔دنیاوی کاموں کے متعلق میں کچھ نہیں کہتا۔لیکن دینی کام جو ہر امیر ہر حاکم ہر خلیفہ اور ہر نبی سے تعلق رکھتے ہیں۔ان میں ان باتوں کو مد نظر رکھنا ضروری ہے۔ان میں سے ایک تو یہ ہے۔جسے دنیاوی معاملات میں لحاظ " یا " رعایت" کہتے ہیں۔اسے دینی کاموں میں جائز نہیں رکھا گیا۔بلکہ واجب قرار دیا گیا ہے۔عام اصطلاح جو دنیا کی ہے اس کو مد نظر رکھتے ہوئے میں نے اسے رعایت اور لحاظ کہا ہے۔لیکن شریعت نے اس کو جائز ہی نہیں بلکہ واجب رکھا ہے۔یہ دنیا کے کاموں میں ناجائز نہیں بلکہ واجب ہے۔پھر اگر شریعت کی اصطلاح ر نظر رکھ کر کہا جائے۔تو کہیں گے کہ شریعت نے بعض ایسے حق رکھے ہیں۔کہ دنیا کے معاملات میں دنیا داروں نے تسلیم نہیں کئے۔یہ حق جو حکام امراء خلفاء بلکہ انبیاء پر ہیں۔یہ ہیں۔اول یہ کہ سابقون کا ایک حق رکھا گیا ہے۔اور شریعت کی رو سے ان کا لحاظ رکھنا ضروری قرار دیا گیا ہے۔اس لئے کہ ان لوگوں نے خدا کے نام کو بلند کیا ہوتا ہے۔اور جو خدا کے نام کو بلند کرتا ہے۔خدا کی غیرت برداشت نہیں کرتی کہ اس کا نام نیچا ہو۔کیونکہ اس طرح خدا تعالی پر اس کا یہ احسان رہ جاتا ہے کہ میں نے تیرا نام اس وقت بلند کیا جب دوسرے اس نیچا کر رہے تھے لیکن تو نے میرا نام بلند نہ کیا۔لیکن خدا کی غیرت یہ پسند نہیں کرتی کہ اپنے اوپر احسان رہنے دے۔اس لئے