خطبات محمود (جلد 7) — Page 95
۹۵ 24 مومن کا سفر فرموده ۳۰ ستمبر ۱۹۲۱ء) تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا۔دو آدمی جب آپس میں ملتے ہیں تو انہیں بہت کچھ آپس میں سننا سنانا ہوتا ہے۔اسی قانون کے ماتحت مجھے آپ لوگوں سے بہت کچھ سننا اور سناتا ہے۔مگر چونکہ کل ہی میں یہاں پہنچا ہوں اور پانچ روز کے متواتر سفر کے بعد کوفت ہے اس لئے میں زیادہ نہیں بول سکتا۔مگر مختصرا ایک بات بیان کرتا ہوں۔جو سفر سے تعلق رکھتی ہے۔انسان جن حالات سے گذرتا ہے ان کے مطابق مضامین بھی دماغ میں آتے ہیں۔سفر سے آیا ہوں۔اور سفر ہی کے متعلق حالات سناتا ہوں۔لیکن وہ سفر دنیاوی نہیں اور نہ یہاں کا سفر ہے۔اس سفر کا ذکر سورہ فاتحہ میں ہے۔گو بہت ہیں جنہوں نے غور نہیں کیا حالانکہ وہ روزانہ پانچوں وقت متعدد بار پڑھتے ہیں کم از کم ۳۲ دفعہ اور زیادہ سے زیادہ چالیس پچاس ساٹھ دفعہ۔مگر کم ہیں جو اس سفر کی طرف توجہ کرتے ہیں جس کی طرف اس میں توجہ دلائی گئی ہے۔کیا یہ عجیب بات نہیں کہ سب کام کو چھوڑ کر تاجر تجارت کو صناع صنعت کو مزدور مزدوری کو طالب علم سبق کو اور استاد پڑھانے کو چھوڑتا ہے اور وضو کرتا ہے۔گویا سب کاموں سے قطع تعلق کرتا ہے اور ایک خاص جگہ جاتا ہے۔اور اپنے کانوں کی طرف اپنے ہاتھ لے جاتا ہے۔اور اپنی توجہ کو ایک خاص طرف لگاتا ہے۔یعنی اپنے خدا سے اپنا معاملہ درست کرتا ہے۔اور اظہار کرتا ہے کہ میں اس سفر پر جا رہا ہوں۔اور یہ میرا مقام نہیں بلکہ میں مسافر ہوں۔کیا سورۃ فاتحہ پڑھنے والا یہی نہیں کہتا کہ اهدنا الصراط المستقيم (الفاتحه : (۶) میں مسافر ہوں اور اپنے گھر کی طرف جا رہا ہوں مجھے سیدھا رستہ بتایا جائے میرا گھر یہ نہیں۔بلکہ اور جگہ ہے۔ایسا نہ ہو کہ میں غلطی سے ایسے رستہ پر چل پڑوں کہ گھر کی بجائے تاریکیوں کے گڑھوں میں پڑ جاؤں۔پھر کہتا ہے صراط الذین انعمت عليهم الفاتحہ : ( ایک شخص آرام سے سفر کرتا ہے مگر جس غرض