خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 77 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 77

LL 19 الفاظ درود کی ترتیب میں حکمت فرموده ۲۲ / جولائی ۱۹۲۱ء گاند ھربل) تشهد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا۔عرفان کا لفظ جو ہمیشہ مذہب میں بولا جاتا ہے اس کے معنی پہچاننے کے ہیں۔عرف پہچاننے کو کہتے ہیں۔عرفان تبھی حاصل ہو سکتا ہے۔جبکہ پہلے علم ہو۔کیونکہ پہچاننا تب ہی ہو سکتا ہے جبکہ چیز کو پہلے دیکھا ہو۔اور پھر دیکھتے ہی یاد آجائے کہ ہاں اس کو پہلے کبھی دیکھا ہے۔اس لئے عرفان ہمیشہ علم کے بعد ہوتا ہے اس نکتہ کو نہ سمجھنے سے اکثر لوگ عرفان سے محروم رہے ہیں۔نماز اور روزہ کی حقیقت بھی علم ہی کی وجہ سے پیدا ہو سکتی ہے۔شریعت کے سب احکام دراصل آئندہ روحانی ترقیات کے ظل ہیں جو مومنوں کو ملتی ہیں۔نماز میں مختلف حرکات روزہ رکھنا، زکوۃ دینا یہ باطنی مقامات کے نشان ہیں۔جب انسان ظاہری فرمانبرداریوں کو پورا کر لیتا ہے۔تو پھر خداتعالی کو بھی پہچان لیتا ہے۔اس گر سے عام طور پر مسلمان ناواقف ہیں۔ان کو ان احکام شرعیہ کی ماہیت اور حقیقت معلوم نہیں ہوتی اس لئے ان کو عرفان بھی نصیب نہیں ہوتا۔وہ ادھر ادھر ٹھوکریں کھاتے پھرتے ہیں۔حالانکہ اگر بچے طور پر عبادت کی جائے تو پھر عرفان ضرور حاصل ہو جاتا ہے۔قرآن کریم کے ہر ایک لفظ میں اتنی قیمتیں ہیں کہ ہر ایک آدمی ان تک نہیں پہنچ سکتا۔آج ایک موٹی سی بات بیان کرتا ہوں۔اس کا دوسرا حصہ پھر انشاء اللہ کبھی موقع ہوا تو بیان کروں گا۔درود شریف سب مسلمان پڑھتے ہیں۔مگر اس کا اصل مفہوم اکثر نہیں سمجھتے۔ان کو معلوم نہیں کہ ان کے درود پڑھنے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا فائدہ پہنچتا ہے۔اور ان کے اپنے ایمان کو کیا فائدہ ہو سکتا ہے۔ایک بچہ روپے، ہیرے جواہر کی قدر نہیں کرے گا۔مگر روٹی کے ٹکڑے کو منہ میں ڈال لے گا۔اس وقت میں درود کے ظاہری الفاظ کو لیکر ان کی خوبی سناتا ہوں۔درود میں صل پہلے رکھا ہے اور بارک بعد میں۔مسلمانوں کو شاذ ہی خیال آیا ہوگا کہ صل پہلے کیوں اور بارک بعد میں کیوں ہے۔اور اس ترتیب میں خوبی کیا ہے جو شخص غور کرے