خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 57 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 57

یہ ابتدائی حالت کا نقشہ ہے۔اور اس سے بھی زیادہ ابتدائی حالت نطفہ کی ہوتی ہے۔لیکن وہی ترقی کرتا کرتا آخر ،موسیٰ عیسی اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم بن جاتا ہے۔پس مشاہدہ نے بتایا کہ ابتدائی غلطی مایوسی کا موجب نہیں۔میرا یہ مطلب نہیں کہ استاد ابتدائی غلطی کو پسند کرتا ہے۔نہیں۔مگر وہ اس سے ناامید نہیں ہوتا وہ اس غلطی کے دور کرنے کی کوشش کرتا ہے لیکن اس شخص کو اپنے سے دور نہیں کرتا۔وہ طالب علم کی غلطیاں دیکھتا ہے مگر یہ نہیں کہتا کہ یہ ناقابل ہے۔کیونکہ وہ جانتا ہے کہ آج کون بڑے سے بڑا عالم ہے۔جس کی زبان ابتداء میں اسی طرح لغزش نہ کیا کرتی تھی۔محض مگر ایک چیز ہے جو اس کے غصہ کو بھڑکاتی ہے۔اور اس کو طالب علم سے نا امید کرتی ہے۔جب وہ دیکھتا ہے کہ طالب علم کا مدعا کوئی نہیں خواہ ایسا طالب علم حروف کو اچھی طرح بھی ادا کرے۔مگر اس کا حروف کو عمدگی سے ادا کرنا اس کو خوش نہیں کر سکتا۔جبکہ اس کو معلوم ہے کہ طالب علم کی نیت پڑھنے کی نہیں۔جب تک بچہ چھوٹا ہوتا ہے۔اس وقت تک یہ کہا جا سکتا ہے کہ سنبھل جائے گا۔مگر جب یہ نظر آئے کہ اس کے دل میں پڑھنے سے کوئی مقصد نہیں۔اور وہ شغل ہے۔جو یہ نہ ہوا تو کچھ اور سہی۔تو پھر ایسا شاگرد استاد کی خوشی کا موجب نہیں ہو سکتا۔اگر طالب علم کا کوئی مقصد ہے۔تو پھر استاد تمام کمزوریوں سے قطع نظر کر کے اس پر محنت کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ ایک دن یہ ضرور اپنے مقاصد کو پالے گا۔مگر کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں۔کہ جوں جوں عمر میں بڑھتے ہیں پڑھتے اور لکھتے ہیں مگر ان کا مدعا کچھ نہیں۔علم آنے کے باوجود اس کی بے قدری کرتے ہیں۔ان سے استاد مایوس ہو جاتا ہے۔خواہ ایسے لوگ بی۔اے ایم۔اے یا مولوی ہو جائیں۔مگر ان کو کچھ فائدہ نہیں ہوتا۔نہ دوسروں کو ان سے فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ان کی مثال اس پیا سے کی ہوتی ہے۔جو اپنے پاس پانی رکھتا ہے۔اور نہیں جانتا۔کہ اس کو کیونکر استعمال کرے۔اس کا علم سیکھنا بیہودہ ہوتا ہے۔بعینہ یہی حال انسانوں کا ہوتا ہے مثلاً وہ بالغ ہوتے ہیں۔اور دین کی طرف متوجہ ہوتے ہیں مگر اس کے اصل مدعا سے غافل ہوتے ہیں۔جس طرح افراد ترقی کرتے ہیں۔اسی طرح اقوام کی بھی ترقی ہوتی ہے۔افراد غلطی کرتے ہیں۔قوموں سے بھی غلطیاں ہوتی ہیں۔جس طرح افراد بچپن میں غلطیاں کرتے اور صحیح تلفظ ادا نہیں کر سکتے۔اسی طرح قوموں کی ابتدا بھی ایسی ہی ہوتی ہے۔ان کو سوچنے کو کہا جاتا ہے۔ان کا دماغ اس کو سوچ نہیں سکتا۔جس وقت ان کے احساسات کو بھڑکنے کے لئے کہا جائے وہ بھڑکتے نہیں اور جب ان کی شہوات کو سرد ہونا چاہیے۔اس وقت سرد نہیں ہوتیں۔جس طرح ابتداء میں بچہ الف کو اچھ یا کچھ اور کہتا ہے۔لیکن آخر صحیح تلفظ ادا کرتا ہے۔