خطبات محمود (جلد 7) — Page 46
وم دلایا جائے۔کہ وہ بیمار نہیں تندرست ہے۔جب ڈاکٹر کا یہ فرض بھی ہو۔تو مریض کو دوا کیسے دی جائے۔دوائی دو تو وہ کہتا ہے مجھے بیمار کہتے ہو۔اور اگر نہ دیں تو علاج کیسے ہو۔وہاں بڑی محنت اور ہوشیاری سے کام کرنا پڑتا ہے۔یہی حال ہمارا ہے۔پھر ایک اور فرق ہوتا ہے کہ ان کو مریض کے رشتہ دار تمام خرچ دیتے ہیں۔یہاں ہمیں اپنے پاس سے ہی خرچ کرنا پڑتا ہے۔تو ہماری مثال تو ایسے ڈاکٹر کی ہے۔جس کو کمرے میں بند کر دیا جائے اور مریضون کو اس پر حاکم مقرر کیا جائے۔اور ساتھ ہی حکم ہو کہ ان کا علاج کرو۔اس پر پس ہماری ذمہ داریاں بڑھی ہوئی ہیں۔ہمارے پاس سامان کم اور طاقت بھی بہت کم ہے۔ذمہ داری کے مطابق نہ سامان ہے نہ طاقت۔پھر باوجود اس حالت کے جو سامان بھی ہمیں میسر ہیں انہیں سے کسی ایک کو اگر ہم ترک کر دیں تو ہمیں کامیابی کی کیا امید ہو سکتی ہے۔ہماری حالت یہ ہے۔کہ اس میں بعض وقت ہم پر خطرناک آتے ہیں۔اور تکلیف ہمیں گھیر لیتی ہے۔اور سکھ کا کوئی پہلو ہمارے سامنے نہیں رہتا۔دولت مند کے لئے ہر وقت آرام نہیں۔بیمار کے لئے ہر وقت تکلیف نہیں۔اگر ہر وقت اس کی ایک سی تکلیف رہے۔تو وہ فورآ مر جائے۔تکلیف و قفوں کے ساتھ آتی ہے۔اور اس طرح ایک مریض لمبے عرصہ تک زندگی پاتا ہے۔اسی طرح ہم پر جو اوقات ہوتے ہیں۔وہ بعض دفعہ اس قسم کے آتے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمیں پامال کر دیں گے۔لیکن پھر ہمیں آرام کا وقفہ دو طرح کا ہوتا ہے۔یا تو ہماری طرف سے ہوتا ہے۔جس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ ہم کام کرتے کرتے تھک گئے ہیں یا خدا تعالی کی طرف سے کہ وہ خیال فرماتا ہے کہ اب کام کرتے کرتے اس حد پر پہنچ گئے ہیں۔کہ ہمیں آرام کی ضرورت ہے۔بہر حال کسی طرف سے جو آرام ہمیں ملتا ہے۔وہ سانس لینے کے لئے وقفہ ہوتا ہے۔پھر جس کو تکلیف کا وقت کہتے ہیں۔وہ اصل ذمہ داری کا وقت ہوتا ہے۔ایسے ہی وقت میں سے ہم آج کل گذر رہے ہیں۔کیونکہ ایک طرف کام کی حالت بڑھتی جا رہی ہے۔اور ایک رو ہے جو چل رہی ہے اور طبائع میں ایک جوش ہے جو لوگوں کو ہماری طرف متوجہ کر رہا ہے اور ہندوستان کے ایسے طبقہ میں جوش ہے جس میں پہلے نہ تھا۔اور اسی طرح غیر ممالک میں بھی ایک لہر چل رہی ہے باہر سے خطوط آتے ہیں۔ان سے اس کی تصدیق ہوتی ہے۔امریکہ سے ایک حبشی ولایت میں آیا ہے۔وہ افریقہ کا باشندہ ہے۔اور اس نے اپنی تمام قوم میں دورہ کیا ہے وہ مذہبا " عیسائی تھا۔اور ولایت میں آکر مسلمان ہو گیا ہے۔امریکہ میں حبشیوں کی بہت سی آبادی ہے۔جو دو کروڑ کے قریب یعنی پنجاب کی آبادی کے برابر ہے۔جب یورپ کے لوگوں نے امریکہ میں نو آبادیاں قائم کیں۔اور ان کو مزدوروں کی ضرورت پڑی۔تو سفید رنگ کے