خطبات محمود (جلد 7) — Page 43
۴۳ کو چور کی طرح آنے والا قرار دیا۔ہم کہتے ہیں یہ سچ ہے کیونکہ حضرت عیسی نے پیشگوئی فرمائی تھی۔کہ مسیح کی آمد چور کی طرح ہوگی ہے۔انہوں نے حضرت مرزا صاحب کو چور کہہ کر مان لیا۔کہ آپ مسیح موعود ہیں اور اس نے مولویوں کو کتا کہا۔میں کہتا ہوں کہ اس سے بھی بد تر۔کیونکہ اس نے روٹی جو غذا ہے وہ ڈالی اور انہوں نے اس سے انکار کیا۔اور مسیح " کے پاس آسمانی غذا تھی۔انہوں نے روٹی سے انکار نہیں کیا۔بلکہ آسمانی غذا سے انکار کیا۔اور یہ بھی یاد رکھو کہ مسیح ناصری نے کہا تھا کہ بچوں سے روٹی لیکر کتوں کے آگے نہیں ڈال سکتا ہوں۔یہ مسیح نے اس لئے کہا تھا کہ اس کے پاس روٹی تھوڑی تھی۔مگر یہ مسیح محمدی چونکہ بہت غذا رکھتا ہے۔اور اسی لئے اس کے متعلق کہا گیا تھا کہ وہ خزانے لٹائے گا۔اس لئے حضرت مرزا صاحب نے جو مسیح موعود تھے کتوں کے آگے بھی وہ غذائیں ڈالیں۔مگر کتوں نے چھوڑ دیا اور اگر یہ اس کو کھاتے تو مر جاتے۔کیونکہ ان کو روحانیت سے لگاؤ نہ تھا۔باقی رہا یہ کہ اس نے کہا کہ وہ بہت بھونکتے رہے اور بھونکتے ہیں۔سو ان کا بھونکنا بے اثر ہو گیا۔کیونکہ وہ بھونکتے ہی رہے اور وہ چار لاکھ انسانوں کو ان سے چھین کر اپنی طرف لے آیا۔ان کا بھونکنا تب موثر کہا جا سکتا تھا جب وہ اکیلا رہتا۔پس اس نے اگر چہ مسیح موعود کو چور کہہ کر آپ کی ہتک کرنا چاہی۔لیکن اس سے وہ پیشگوئی پوری ہوئی۔جو مسیح ناصری نے کی تھی۔اور اس نے اپنے اور اپنے ساتھی دیگر مولویوں کے لئے کتے کا خطاب تجویز کیا۔اور اپنے آپ کو بھونکنے والا بتایا۔سو یہ بھی سچ ہے۔کہ ان کا سوائے بھونکنے کے اور کوئی کام نہیں۔اور اس سے کوئی حقیقی فائدہ نہیں۔سوائے اس کے جو بھلا مانس آئے۔اس کو بھونک پڑے۔مسیح موعود نے خزانے معارف و حقائق کے لٹائے۔مگر کتے جو نجاست خور تھے انہوں نے وہ غذا نہ کھائی بلکہ بھاگ گئے۔ان کا کام ہڈیاں چبانا ہے۔یہ کہتے ہیں دو احمدیوں نے بیعت فتح کی۔اول تو یہ جھوٹ ہے۔دوسرے اگر درست بھی ہو تو کیا ہوا۔یہ وہی لوگ ہیں جن کو ہم نے پرے پھینک دیا۔بات تو تب ہوتی جو کسی ایسے شخص کے متعلق یہ ہو کہ متقی پرہیز گار نماز و روزہ کا پابند ہو۔پھر ان کی کامیابی کسی جا سکتی ہے۔بات دراصل وہی ہے کہ بیج کو دیکھنے والے چند ہوتے ہیں۔اور جوں جوں بڑھتا جاتا ہے۔لوگ پہچانتے جاتے ہیں۔اسی طرح جب ہمارا سلسلہ بیج کی مانند تھا۔چند آدمیوں نے مانا۔اور جوں جوں بڑھتا گیا۔لوگ اپنی استعداد کے مطابق قبول کرتے گئے اور قبول کرتے جا رہے ہیں۔اور قبول کریں گے۔اور جب پورے درخت کی شکل اختیار کرے گا۔اس وقت جو انکار کرے گا وہ اندھا ہو گا۔اور کون ہو سکتا ہے۔وہ بہت خوش ہیں، کہ ہماری مسجد اقصیٰ کے پرلی طرف سے نعرے مارتے ہوئے گذر گئے۔اور یہ