خطبات محمود (جلد 7) — Page 40
10 الہی سلسلے اور ان کے دشمن مخالفوں کی زبان سے مسیح موعود کی صداقت (فرموده ۲۵ / مارچ ۱۹۲۱ء) تشهد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا۔بہت سی باتیں دنیا میں ہیں جن کو لوگ حقیر سمجھتے ہیں۔جو بڑی سے بڑی بات ہے وہ در حقیقت چھوٹی ابتداء رکھتی ہے۔اشیاء کی حقیقت کو دیکھیں تو ہمیں یہی نظارہ نظر آتا ہے۔بڑے سے بڑے درخت جو جنگل میں نظر آتے ہیں ان کے بیج چھوٹے ہوتے ہیں۔بلکہ بیج جو ہمیں نظر آتا ہے اس سے بھی ایک باریک ذرہ ہوتا ہے۔جو بیج کا کام دیتا ہے۔اور جس سے درخت پیدا ہوتا ہے۔خواہ کوئی درخت ہو پیپل کا خواہ بڑکا۔آم کا ہو خواہ جامن کا۔اس میں ایک ذرہ ہوتا ہے۔جس سے اتنے بڑے درخت کی پیدائش ہوتی ہے۔اسی طرح انسان کی پیدائش بھی ایسی ہی ہے۔اگر درخت کی گٹھلی کو دیکھیں تو وہ بھی سارا پیج ہونے کے باوجود کچھ بڑی چیز نہیں ہوتی۔غرض جتنے بڑے کام ہیں۔تمام کی ابتدا نہایت ادنیٰ حالت سے ہوتی ہے۔اور ایسی حالت ہوتی ہے کہ انسان کی ننگی آنکھ اس کو دیکھ نہیں سکتی۔بلکہ اعلیٰ درجہ کی خوردبین سے نظر آتی ہے۔بظاہر دیکھنے والا اور حقیقت سے نا آشنا آم اور بڑ کے درخت کو دیکھ کر ان کے بیج کو دیکھے تو یہی کہے گا۔کہ اس خفیف بیچ سے اتنا بڑا درخت کیسے پیدا ہو گیا۔اور وہ کیڑا جس کو ڈاکٹر منی کے قطرے میں حرکت کرتا ہوا دیکھتا ہے نا واقف کب باور کر سکتا ہے کہ اس سے انسان پیدا ہو گیا وہ داناؤں پر ہنسے گا اور ان کو پاگل بتائے گا۔حالانکہ وہ خود جاہل ہو گا کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ بڑی چیز کی ابتداء باریک شے سے ہوتی ہے۔جیسا کہ پاگل اپنے پاگل پن کے باوجود دوسرے پر ہنسی کرے گا اور یہ شخص قابل رحم ہوتا ہے۔اس کے دماغ کی کل بگڑ گئی۔وہ اپنی جائداد کو چھوڑتا اور مٹی کے چند ڈھیلوں پر خوش ہوتا ہے اس کو اچھی چیز بری نظر آتی ہے۔اسی طرح ناواقف شخص قابل رحم ہے۔جو انکار کرے کہ چھوٹے بیج سے درخت پیدا نہیں ہو سکتا۔لیکن یہ