خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 429 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 429

اس کے نبی اور مامور کے ارشاد اور بلاوے کے ماتحت لوگ یہاں جمع ہوتے ہیں۔کیا ہم ان کی خدمت کے لئے چند روز کے لئے تھوڑا وقت نہیں نکال سکتے ؟ اگر نہیں تو پھر کیسے معلوم ہو سکتا ہے کہ ہم سارا وقت خدا تعالیٰ کے لئے نکال سکتے ہیں یہ تو قربانیوں کا مزا چکھنے کے طور پر ہے۔اس لئے جہاں تک ہو سکے اپنا کام چھوڑ کر بھی افسروں کے سامنے خدمات پیش کریں کہ وہ وقت پر ان کو انتخاب کر لیں۔ورنہ اگر دیر کے بعد پیش کریں گے تو انتخاب کرنے اور کام سمجھنے میں دقت ہوگی۔اس لئے ابھی سے پیش کرنا چاہیے۔سوائے دکانداروں کے کہ ان کے لئے یہ ایام خاص اوقات میں سے ہیں۔دکاندار بھی اپنی دوکانداری کے ساتھ مہمانوں کی خدمت کر سکتے ہیں مثلاً اس طرح کہ چیزیں فروخت کرنے میں وہ اتنا نفع نہ لگائیں کہ لوگ اس کو لوٹ سمجھیں۔یہ ان کی خدمت ہے اور پھر دکان اس وقت لگائیں جس وقت مهمان جلسہ کے وقت سے فارغ ہوں اور اس وقت دکان بند کردیں جب مہمانوں کے جلسہ گاہ میں جاکر تقریریں سننے کا وقت ہو۔یہ بھی خدمت ہے۔کیونکہ اگر تقریروں کے وقت میں دکان لگائیں گے تو بعض کمزور طبیعتوں کے جلسہ میں جانے میں روک پیدا ہوگی۔پھر دکانداروں کی یہ بھی خدمت ہے کہ جب مہمان آئیں تو یہ خوش خلقی سے ان سے بات چیت کریں اگر وہ سختی بھی کریں تو یہ نرمی اختیار کریں۔کیونکہ انکی حیثیت گاہک ہی کی نہیں مہمان کی بھی ہے اگر ان سے کوئی چیز مہمان طلب کرتا ہے اور وہ ان کے پاس نہیں تو یہی نہ کردینا چاہیے کہ میرے پاس نہیں بلکہ مہمان کو بتا دینا چاہیے کہ فلاں جگہ سے یہ چیز ملے گی۔اور اگر ہو سکے تو وہاں سے لے دینی چاہیے یہ بھی ان کی خدمت ہے۔غرض دکانداروں کو چھوڑ کر باقی لوگوں کو اپنے اوقات اپنے کاروبار سے فارغ کر کے افسروں کے سپرد کر دینے چاہئیں۔تاکہ وہ مناسب خدمات سپرد کر دیں۔پھر بیرون جات سے آنے والوں اور یہاں کے لوگوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ اس اجتماع کے موقع پر دعاؤں کو خاص طور پر مد نظر رکھیں۔دعا تو اس وقت بھی ہوتی ہے مگر جو پہلے کی جائے وہ زیادہ مقبول ہوتی ہے اس لئے شریعت نے استخارہ پہلے رکھا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب بوجھ پڑ جائے تب تو مصیبت میں لوگ اس کو پکارتے ہی ہیں۔لیکن یہ شخص پہلے سے اپنے آپ کو میری مدد کا محتاج سمجھتا ہے۔پس اس لئے پہلے ہی دعا کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اس جلسہ کو پہلے جلسوں سے زیادہ ترقیات اور اتحاد و اتفاق جماعت اور علوم روحانیت کی ترقی کا موجب بنائے۔اللہ تعالٰی ہم سب کو دینی خدمت کے پورا کرنے کی توفیق دے اور ایسے رستہ پر چلنے کی توفیق دے کہ ہمارا انجام بخیر اور اس کی رضا پر ہو۔الفضل ۱۴ دسمبر ۱۹۲۲ء)